امجد علی، تربت

زیارت شریف ، جسے کوہ مراد کے طور پر جانا جاتا ہے، تربت شہر کے جنوب مغرب میں زکری برادری کے لئے ایک مقدس مقام ہے، جہاں ہر سال 27 رمضان المبارک کو ہزاروں زکری حجاج مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے پہچتے ہیں۔

ذکری حجاج تقریبا دو ہفتوں تک یہاں قیام کرتے ہیں۔ تربت میں اپنے قیام کے دوران مناسب انتظامات کی کمی کے باعث حاجیوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
 

غسل خانوں کی قلت بڑے مسائل میں سے ایک ہے جس کا سامنا ہر سال حاجیوں کو کرنا ہوتا ہے. یہ لوگوں  خاص طور پر خواتین کے لئے تکلیف کا سبب بنتا ہے۔ مرد حاجیوں کو کھلی ہوا میں رفہ حاجت کے لیے باہر نکلنا ہوتا ہے جو حفظان صحت کا مسئلہ بھی بناتا ہے.

ذکری زیارت کمیٹی کے رکن عزت بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ، “مقامی انتظامیہ کی طرف سے کچھ طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، تاہم، یہ ایک بڑی تعداد میں حجاج کے لیے ناکافی ہیں۔”

 

دو ہفتے کے عرصے تک جاری رہنے والے جشن کے دوران حاجیوں کو طبی سہولیات کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص کر بچوں کو ایسے موسم گرما کے حالات سے اکثر صاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے اسہال کا سامنا ہوتا ہے۔ ان دنوں تربت ضلع کا موسم غیر معمولی گرم ہوتا ہے۔

 

منیر بلوچ ، رکن ذکری زیارت کمیٹی، نے پاک وائسز کو بتایا کہ “حکومت نے ہمیں حج کی تیاریوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر فراہم کیے ہیں”۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیارت کمیٹی نے خواتین کے لئے اپنے فنڈز سے غسل خانے تیار کیے ہیں لیکن وہ بڑے پیمانے پر جماعت کے لئے کافی نہیں ہوسکتے ہیں.

زیارت شریف کے قریب واقع زیارت ڈیم کے خشک ہونے کے باعث پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔ اس ڈیم کو سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا لیکن پچھلے چند سالوں میں بارشیں نہ ہونے کے باعث ڈیم تقریبا خشک ہو چکا ہے۔

کوہ مراد کے متوالی مجاہد حسین نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، “مقامی انتظامیہ نے ہمیں کبھی بھی کافی مدد اور فنڈز فراہم نہیں کی ہیں اور اس کمیونٹی کے لوگوں کے عطیہ کے لۓ جو کچھ بھی دیکھتے ہیں ان کی ترقی ہے۔

رائیٹر کے بارے میں: امجد علی پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ تربت شہر سے کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY