بادل بلوچ
پسنی میں گورنمنٹ ہائی سکول مستانی ریک بازار میں انٹرنیشنل ارتھ ڈے کے موقع پر ”گرین پاکستان“ کے موضوع پر ”پاک یو ایس المنائی نیٹ ورک گوادر چپٹر“ کے اشتراک سے سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سمینار میں سکول کے طلبا نے ارتھ ڈے کے مناسبت سے تقاریر پیش کیے۔
 سمینار میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز محفوظ خالق اور سکول کے اساتذہ و طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سمینار کے شرکا سے ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول مستانی ریک بازار فقیر داس، میرین بیالوجسٹ فشریز اسد اللہ غالب اور مصنف ظریف بلوچ نے خطاب کیا، جب کہ اسٹیج سکریٹری کے فرائض پروگرام منتظم واحد بخش نے سرانجام دیے۔
سمینار سے خطاب کرتے ہوئے فقیرداس نے کہا کہ آج اگر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں میں ایک پودا لگا کر سکول کے پودوں کی دیکھ بھال اور نگہبانی کریں گے تو وہ دن دور نہیں ہو کہ پسنی ایک گرین سٹی میں تبدیل ہوگا۔
میرین بیالوجسٹ فشریز اسد اللہ غالب نے کہا سمندر میں بحری جہازوں سے تیل رسنے کی وجہ سے سمندر آلودہ ہو رہا ہے، اور اس کے براہِ راست اثرات زمین پر رہنے والی مخلوقات پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈسٹریل اور کارخانوں سے جو زہریلا گیس اور مواد کا اخراج ہوتا ہے، اس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سے آبی حیات بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ آبی آلودگی کی وجہ سے سمندری مخلوقات کی کئی اقسام نایاب ہو چکی ہیں۔ گلوبل وارمنگ اور کلائمٹ چینج سے نمٹنے کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک مؤثر منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور کئی ممالک میں ون ٹائم یوزر پلاسٹک کے بیگز کے استعمال ترک کر کے ماحول دوست بیگز کا استعمال شروع کیا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY