صہیب اقبال ، خانیوال

موہری پور گاؤں، خانیوال

جنوبی پنجاب کے ضلع خانیوال میں ایک ایسا گاؤں بھی ہے جہاں پاکستان کے قیام سے آج تک فرسودہ روایت میں جکڑی خواتین نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔۔

ضلع خانیوال کا گاؤں موہری پور حلقہ این اے 156 میں آتا ہے جہاں 1947 میں موہری خاندان نے متفقہ فیصلے میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ گاؤں کی خواتین آج بھی اس دقیہ نوسی روایت کی پاسداری کرتیں دکھائی دیتیں ہیں۔
 الیکشن کمشن کے مطابق موہری پور گاؤں میں خواتین کا  2ہزار 5سو رجسٹرڈ ووٹ ہیں جبکہ حلقہ این اے 156میں 38 یونین کونسلیں شامل ہیں۔
خانیوال کے اس گاؤں کی طرح جنوبی پنجاب کے کئی دیہاتوں میں آج بھی خواتین کا ووٹنگ کے عمل میں حصہ بننے کی خاص حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے۔

موہری پور  کے رہائشی الیاس شاہ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ  “ہمارے بزرگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اس گاؤں میں خواتین ووٹ کاسٹ نہیں کریں گی اب خواتین اپنی مرضی سے ووٹ نہیں ڈالتی اور انتخابی عمل میں دلچسپی نہیں لیتیں۔ اس گاؤں کی خواتین اپنے بزرگوں کی روایت پر عمل کرتی آرہی ہیں۔”

ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر خانیوال  محمد شمس نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ” میری یہاں الیکشن سے چند ماہ قبل پوسٹنگ ہوئی ہے تاہم اس بار ہم اس گاؤں کی خواتین کی ووٹنگ کو یقینی بنائیں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “اگر کسی نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔”

تاہم عرصہ دراز سے قائم موہری پور کی فرسودہ روایت الیکشن کمیشن کے لیے ایک چیلنج ہے۔ حلقہ این اے 150 میں تحریک انصاف کے امیدوار بیرسٹر رضا حیات ہراج ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی جانب سے ایڈمرل سعید احمد سرگانہ اور سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

سید فخر امام قومی حلقہ 150 سے اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں ۔  سید فخر امام 1990 اور 1997 میں مسلم لیگ ن سے ایم این اے رہ چکے ہیں۔۔ 2002 اور2008 میں مسلم لیگ ق میں رہے۔۔۔2013 میں پپلز پارٹی سے الیکشن لڑا اور شکست کھائی اور اب 2018 میں آزاد حثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ سید فخر امام اس حلقہ سے سینئر سیاستدان ہیں لیکن ان کی جانب سے بھی اس حوالے سے کبھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

اب 25 جولائی کو دیکھنا ہو گا کہ موہری پور کی خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کی فرسودہ روایت جاری رہتی ہے یا پھر اس کو ختم کر کے گاؤں کی خواتین کو پہلی بار ووٹ ڈالنے کا حق دیا جاتا ہے۔

LEAVE A REPLY