دھرمیندرکماربالاچ

آج سے ہزاروں سال پہلے زمانہ ست یگ کی بات ہے کہ دنیاکے قدیم شہر “ملتان “میں راجہ ہرناکشپ نامی راج کرتا تھا۔ اُس نے سرشٹی (دنیا) کے رچنے والے برہماجی کی کٹھور تپسیا(سخت ریاٖضت ) کرکے وردان مانگاکہ نہ میں دن کو مروں نہ رات کو ،نہ زمین پرمروں نہ آسمان پر ،نہ اندر مروں نہ باہر ، نہ مجھے انسان مارے نہ حیوان اور نہ ہی کسی ہتھیار سے ماراجاؤں۔جب برہماجی نے اِس کی خواہش کے مطابق وردان عطاکیا تو اُس میں بہت طاقت سماگئی اور کوئی بھی جاندار چیزاسے نقصان نہ پہنچا سکتی تھی ۔جب اِسے علم ہوا کہ اب مجھے سوئم بھگوان بھی نہیں مارسکتا تو اُس نے گھمنڈ میںآکر خدائی دعویٰ کرلیا اور بہشت دوزخ بھی اپنے ہی بنالئے ۔لیکن اِس کے بیٹے بھگت پرہلادنے اِس جھوٹے خدائی دعوے کومسترد کردیااور ہرناکشپ کوحقیقی خداکی طرٖف متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ اے پتا جی ! پرماتماایک ہے ،اُسی ایک نے انیک چیزیں بنائیں،وہی سبھی کا خالق ومالک ہے ۔اُسے کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ خود پیدا کرنے والا ہے ۔میری بات مانیں تو بدی کا مارگ چھوڑکر راہِ راست پر آجائیں۔ اِسی میںآپ کی بھلائی ہے ۔

پرہلاد: راج پاٹ سُکھ بھوگ پتاجی کھِن بھنگور کہلاتے ہیں
جِیواکیلا آوے جاوے کوئی سنگ نہیں جاتے ہیں
ہر ی کام نام جپے جو نِس دِن سو ئی موکھش پاتے ہیں
مارن ہارا کون جگت میں جس کو رام رکھاتے ہیں
ہرنا کشپ : کٹھن تپسیا کرکے میں نے وربرہماسے پایاہے
امر ہو کر راج کروں میں جب لگ سورج تارا ہے

میرا نام سنت سب کانپیں دیو دیتئے گن سارا ہے
کون جگت کے اندر مجھکو دُوجا مارن ہارا ہے
اسی طرح سوال وجواب میں باپ بیٹے کے درمیا ن تناؤ حد سے زیا دہ بڑھ گیا اور بھگت پرہلاد کواپنے رستے سے ہٹانے کیلئے کئی ترکیبیں اختیار کیں۔خونی ہاتھی ،خونخوارشیروں،زہریلے سانپو ں کے آگے ڈالاگیا،پہاڑسے گرایا گیا ۔گرم تیل کے کڑاہے میں پھینکاگیا لیکن بھگوان نے اپنے سچے بھگت کوہرتکلیف سے دور رکھا۔جب پرہلاد اِن سب چیزوں سے بچ گیا تو ہرنا کشپ کی بہن ہو لیکانے اِسے اگنی منتر کی ودھی کے ذریعے بھسم کرنے کی ٹھان لی ۔ اِس نے بھگت پرہلاد کو گودمیں لیکر اگنی منتر کااُچارن کیا تو خو د راکھ کی ڈھیری بن گئی اور پر ہلادپربھگوان نے کوئی آنچ نہ آنے دی ۔کیونکہ سبھی منتروں سے اعلیٰ منتر اُس پا ر برہم پرماتما پروشواس (اُس لامحدود ہستی پر یقین ) رکھنے کا سچا منتر ہے ۔

اور جب ہولیکا مر گئی تو ہرنا کشپ کو بہت دُکھ ہوا اور پرہلاد کو ختم کرنے کیلئے ایک مٹی کے ستون کو خوب گرم کروا کر اُس سے لپٹنے کو کہا تو پرہلادنے رام رام رام مہاراج رام مہاراج (اللّہ اللّہ اللّہ سب راجاؤں کا راجہ ہے یعنی اللّہ اکبرللّہ اکبرللّہ اکبراللّہ سب سے بڑا ہے )کا نعرہ بلند کرتا ہوا گرم ستون سے لپٹ گیا ۔جب رام نام کے منتر سے وہ آگ کی طرح دہکتا ہو استون بھی ٹھنڈا پڑ گیا تو ہرنا کشپ نے تلوار نکال کر کہااے مورکھ !ان سب چیزوں سے توتُوبچ گیالیکن میری تلوار کے گھاؤسے نہیں بچ سکے گا۔اب پکاروہ تیرا رام کہاں ہے ۔

ہر نا کشپ: کہاں تیرا وہ رکھوالا جس کاتجھے سہاراہے
باربارسمجھاؤں تجھکومانے نہیں گنواراہے
ایک کھڑگ سے کروں تمھارادھڑسے سیس نیاراہے
اب میں دیکھوں کون جگت میں تجھے بچاون ہاراہے
توپرہلادنے کہاپتاجی !وہ توپاربرہم پرماتما(لامحدودہستی)ہر چیز میں ویاپک (موجود)ہے ۔بلکہ اِسی گرم ستون میں بھی موجودہے ۔اس جگہ بھگوان نے اپنے بھگت کے قول کوپورا کرنے کیلئے اُسی ستون میں پرگٹ(ظاہر )ہوناپڑا بھگوان نے نرسنگھ رُوپ دھارلیاجوکہ دھڑ انسان کااورمنہ شیر کاتھایعنی انسان اورشیرکامِلاجُلارُوپ تھا۔نرسنگھ روپ نے ہرناکشپ کو اُٹھاکرمحل کی دہلیزپر لیجاکر کہا !اے مُورکھ تیر ی موت کا سمئے آگیا ہے ۔اب دیکھ نہ دن ہے نہ رات …

LEAVE A REPLY