ولید خان، رحیم یار خان

رحیم یار خان میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس غیر فعال ہونے کے باعث شہری زیر زمین آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ضلعی ادارہ صحت کے مطابق ضلع میں زیر زمین پانی میں آرسنیک کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث یہ پینے کے قابل نہیں رہا ہے۔

رحیم یارخان ضلع تقریباً 50 لاکھ کی آبادی کا ضلع ہے اور اسکا سب سے بڑا مسئلہ صاف پانی کا نہ ہونے کا ہے۔

دوسری جانب صاف پانی کے لیے لگائے گئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ انتظامیہ کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ناکارہ ہو چکے ہیں اور بہت سے شہری زیر زمین مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔


 ڈی ایچ او رحیم یار خان ڈاکٹر غضنفر شفیق نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ زیر زمین پانی میں آرسینک کی مقدار زیادہ ہونے سے مختلف بیماریاں جنم لے رہی  ہیں جن میں سر فہرست ہیپا ٹائٹس ہے۔  خصوصاً بچے فوری بیمار ہوجاتے ہیں ۔”

رحیم یار خان شہر کے علاقے عباسیہ پل کے پاس موجود واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث کافی عرصہ سے خراب پڑا ہے. کروڑوں روپے کی لاگت سے یہ واٹر پلانٹ لگایا گیا تھا لیکن دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس کے نلکے تک غائب ہو چکے ہیں۔

صاف پانی کے حصول کے لیے شہری دور دراز نہر کنارے نصب ہینڈ پمپ اور موٹروں سے پانی بھر کے گھروں کو لے جانے پر مجبور ہیں.شہریوں کے مطابق زیر زمین پانی سے کئی قسم کی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں اور خصوصاً بچے بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔۔

گھروں میں موجود واٹر سپلائی سسٹم پرانا ہونے کے باعث صاف پانی میں گٹر لائن کا گندا پانی شامل ہو کر آتاہے۔

LEAVE A REPLY