بالاچ قادر،گوادر

 گوادر پورٹ میں چینی کمپنی کی جانب سے قائم  واٹر ڈیسلینیشن پلانٹ سے گوادر شہر میں پانی سپلائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

چین اورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کی جانب سے تنصیب شدہ یہ پلانٹ گوادر شہر کو یومیہ 2لاکھ64ہزار گیلن پانی فراہم کرے گا۔ پلانٹ سے سمندر کے کھارہ پانی کو میٹھا بنایاجارہا ہے جس کا افتتاح رواں سال جنوری کے مہینے میں کیا گیا تھا اور آج سے شہر کو پانی سپلائی کا باقائدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

 پلانٹ سے صاف پانی کی ٹینکروں کے ذریعے شہر کو روزانہ پانی کی ترسیل کی جائیگی۔

یاد رہے کہ انکرہ ڈیم خشک ہونے کی وجہ سے اس وقت گوادر کو پانچویں بار پانی کی قلت کا سامنا ہے اور پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے میرانی ڈیم سے ٹینکروں کے ذریعے پانی کی سپلائی کی جارہی ہے ۔

چئیرمین سینیٹ نے واٹرپلانٹ سے پانی سپلائی کا آغاز کرنے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ”چین کی جانب سے یہ پلانٹ گوادریوں کے لیے قیمتی تحفہ ہے جس سے پانی بحران پر کافی حد تک قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ”

  بلوچستان کی صوبائی حکومت اور چینی کمپنی کے  درمیان معاہدہ طے ہوا ہے کہ کمپنی 80 پیسہ فی گیلن کے حساب سے حکومت سے وصول کرے گی۔

چینی اورسیز ہولڈنگ پورٹ کمپنی کے چئیرمین ژوباؤژنگ نے پاک وائسز سے بات چیت کے دوران کہا کہ ”ہماری کمپنی گوادر میں سوشل سیکٹر پر کام جاری رکھے گی اور وہ مقامی لوگوں کی ہر قسم کی مدد کے لیے تیار ہے۔”

چئیرمین گوادر پورٹ اتھارٹی میر دوستین خان جمالدینی نے پاک وائسز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس واٹر ڈیسیلینشن پلانٹ سے ڈیموں پر انحصار کم ہوگا۔”

گوادر کے ایک شہری نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر خدشہ کا اظہار کیا کہ ” کہی ایسا نہ ہو کہ گوادر میں موجود دیگر واٹر ڈیسالینیشن پلانٹس کی طرح یہ پلانٹ بھی ایک دو مہینوں بعد ناکارہ ہوجائے۔”

LEAVE A REPLY