برکت اللہ بلوچ

گوادر

 گوادر میں ٹینکر مالکان نے رقم کی عدم ادائیگی پر ایک مرتبہ پھر ہڑتال کر دی ہے جس کے باعث گوادر اور گرد نواح کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔

گوادر میں اس وقت فراہمی آب کا واحد زریعہ میرانی ڈیم سے ٹینکروں کے زریعے پانی کی فراہمی ہے جبکہ یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ ٹینکر مالکان ہڑتال پر ہیں اور حالیہ ہڑتال ایک ہفتے سے جاری ہے۔ ٹینکر مالکان کے مطابق حکومت کی جانب سے تاحال انہیں واجب الادا رقم جاری نہیں کی جا رہی ہے۔

گوادر میں حکومت اب تک کروڑوں روپے ٹینکروں کے زریعےپانی کی فراہمی کی مد میں خرچ کرچکی ہے لیکن تاحال حکومت پانی کے بحران پر مستقل قابو پانے کے منصوبے پر ناکام دکھائی دے رہا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق گوادر میں پانی کے بحران پر قابو پانے کے لئے نئے ڈی سالینیشن پلانٹس کے قیام پر بھی کام ہورہا ہے۔ سربندر کے مقام پر ایف ڈبلیو او کے زیر نگرانی ڈی سالینیشن پلانٹ زیرتعمیرہے اس کے علاوہ کارواٹ ڈیسالینیشن پلانٹ کی بحالی بھی زیر غور ہے۔

ٹینکرایسوسی ایشن کے عہدیدار اسحاق شہداد نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے دعوئ کیا ہے کہ اس وقت حکومت ٹینکرمالکان کی ایک ارب چالیس کروڑ روپے کی مقروض ہے اور گزشتہ سات مہینوں سے انہیں رقم کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے حکومت کی جانب سے انہیں ہر تین مہینے کے بعد رقم کی ادائیگی کی یقین دہانی کی گئی تھی لیکن گیارہ مہینوں کے بحران میں صرف ایک سہہ ماہی قسط انھیں جاری کی گئی ہے۔

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایس ڈی او نثاراحمد نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ  حکومت بلوچستان ٹینکرز مالکان کو رقم کی ادائیگی کی پابند ہے ان کے محکمے کی جانب سے سمری ارسال کی جاچکی ہے لیکن رقم ابھی تک ریلیز نہیں کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹینکروں کےزریعے پانی کی سپلائی گزشتہ سال 15 مئی سے شروع کی جاچکی ہے اور اب تک تقریباََ 90 کروڑ روپے اس مد میں خرچ کئے جاچکے ہیں اس وقت گوادر شہر میں تین سو اور گرد نواح کے علاقوں میں 90 ٹینکر پانی سپلائی کرنے کے کام پر معمور ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ حکومت کی جانب سے 12ہزار لیٹر والے ٹینکروں کو پچاس ہزار جبکہ پانچ ہزار لیٹر والے ٹینکروں کو اکیس ہزار،چار ہزار لیٹر والے ٹینکروں کو چودہ ہزار ایک سو اور تین ہزار لیٹر  گنجائش رکھنے والے ٹینکروں کو دس ہزار فی ٹرپ ادائیگی کی جارہی ہے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوادر انیس طارق نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ٹینکرز مالکان کی رقم  کی منظوری دی جاچکی ہے لیکن آڈٹ رپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث پیسوں کی ترسیل روک دی گئی ہے لیکن چند روز کے اندر تمام دستاویزات کو مکمل کیاجائے گا اور ٹینکرمالکان کو ڈیڑھ ماہ کی ایک قسط جاری کی جائے گی۔

ٹینکر ایسوسی ایشن کے نمائندے اسحاق شہداد کا مزید کہنا تھا کہ انھیں ستمبر تا جنوری کی چیک جاری کئے جا چکے ہیں لیکن اکاؤنٹ میں رقم نہ ہونے کے سبب تاحال کیش نہیں ہوسکا ہے۔ ان کے مطابق ان کی آمدنی کا واحد زریعہ یہی ٹینکرز ہیں جو روزانہ 300 کلومیٹر کا سفر طے کر کے میرانی ڈیم سے گوادر اور گردونواح کے لوگوں کو پانی پہنچاتے ہیں ان کے مطابق انھیں ڈیزل اور دیگر اخراجات کی مد میں روزانہ 8 سے 10 ہزار کا خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ رقم کی عدم ادائیگی کے سبب انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں عوام کے مشکلات کا بھی اندازہ ہے لیکن انھوں نے ہڑتال کا فیصلہ انتہائی مجبوری میں کیا ہے کیونکہ وہ اس وقت بدترین مالی مشکلات کا شکار ہیں۔انکا کہناتھا کہ اگر حکومت کی جانب سے انھیں گزشتہ واجب الادا رقم میں سے ایک سہہ مائی قسط بھی جاری کیا جائے تو وہ پانی کی فراہمی کے لئے تیار ہیں۔

LEAVE A REPLY