ساگر شرما، مٹھی

صدیوں سے آباد  تھر کے لوگ  سال کے چھ ماہ  پانی کے بحران کے باعث صحرائی علاقوں سے بئراجی علاقوں کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔  صحرائے تھر کے سانس کی  ڈوری  بارش کی بوند سے جڑی ہوئی ہے ، مگر عالمی  موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تھر میں بارشیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

صوبہ سندھ میں واقع  انیس ہزار چھہ سو اڑتیس   کلو میٹر  اراضی  پر مشتمل    صحرائے تھر  کی  تقریبا 13 لاکھ    مقامی زندگیوں کا گزر بسر  خصوصی طور پر، مال مویشی اور  کھیتی باڑی پر ہے۔ پانی کی قلت کے باعث  لوگ زیر زمین کڑوا پانی پینے پر مجبور ہیں جو انسانی صحت  کے لیے مضر ِصحت ہے۔

 اس  حوالے سے  سماجی کارکن  کرشن شرما بتاتے ہیں کہ  “جو زیر زمیں پانی  بالکل کڑوا  زمیں   میں موجود مختلف سطحوں میں  20 سے 500 فٹ تک ملتا ہے ، اور وہ   ناقابل   ِ استعمال ہے جس کو استعمال کرنے کے لیے  مختلف  مقامی سماجی تنظیمیں  دیگر طریقوں سے قابل استعمال بنانے کی کوششیں کر رہی ہیں مگر صحرائی  علاقہ ہونے کی وجہ سے پورے  علاقے کے لیے اس قسم کے اقدامات حکومتی اداروں کے علاوہ ان تما م غیر سرکاری اداروں کے بس کی بات نہیں ہے۔”

 پانی  کی شدید کمی کی وجہ سے  صحرا ِ تھر کی کاشت کاری  مون سون کی بارشوں پر ممکن ہوتی ہے، مگر گذشتہ کچھ برسوں سے موسمی تبدیلی کی وجہ سے بارشیں  اپنی  وقت پر نا ہونے سے یہاں کی مقامی اور روایتی  فصل ” جوار ، مونگ ، باجھرا  وغیرہ ”  کی پیداوار کم ہونے  سے یہاں ہر دوسرے سال قحط ان دھرتی کے مکینوں کا نصیب بن   چکا ہے ۔

  قحط زدہ حالات میں لوگوں کے معصوم  ننھے بچے   غذائی کمی کی وجہ سے  اپنی ماؤ ں    کی گود سے رخصت ہو کر  موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ، ان کے ساتھ ساتھ   مال مویشی    میں  موجود غذائی کمی کی وجہ سے ہر روز سیکڑوں کی تعداد میں  مرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے   مقامی کاشت کار دن بہ دن  معاشی طور پے کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔

 ضلع تھرپارکر کے  ہر سال  آبادی کا 40 فیصد جو یہاں کی مقامی  لوگوں خصوصی طور پر بھیل اور کولہی برادری کے لوگ پانی کی قلت کی وجہ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں ۔ یہ لوگ سندھ کےبئراجی علاقوں  میں  ضلع میرپورخاص، سانگھڑ ، بدین ، ٹھٹہ ، ٹنڈومحمدخان ، ٹنڈوالہیار ، مٹیاری ، شہید بینظیرآباد ،   سے  صوبہ پنجاب کے علاقے میان چنوں تک اپنے  گاؤں سے  نا امید ہو کر  اپنے  مال مویشی ، بچے اور خواتین سمیت   نقل مکانی کرتے  ہیں جہاں پر مختلف فصل  چاول، گندم، گنہ، کپاس ،  کی کاشت اور کٹائی کے لیے مزدوری کے وجہ سے چھ ماہ تک رہ جاتے ہیں۔

سیکڑوں میل پیدل سفر کرنے والے یہ لوگ پورا سال ان راستوں پر اِدھر سے اُدھر  ہجرت کرتے رہتے ہیں ۔ ان ساری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے یہ لوگ قحط زدہ حالات میں  اپنی زندگی کا یہ سفر جاری رکھتے آ رہے ہیں۔ ہجرتی قبائل ہونے کی وجہ سے  ان لوگوں کے بچے  تعلیم کے  بنیادی حق سے محروم ہیں۔

رائیٹر کے بارے میں: ساگر شرما مٹھی، تھرپارکر سے پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 

LEAVE A REPLY