ارشد وحید چودھری

کہا جاتا ہے کہ پانی زندگی ہے اور زمین جیسے واحد سیارے پہ اگر زندگی کے آثار موجود ہیں تو اس کی بنیادی وجہ بھی پانی ہی ہے لیکن پاکستان میں زندگی کی یہ علامت دن بدن معدوم ہوتی جا رہی ہے جس میں متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام( یو این ڈی پی) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فی کس پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد 121 کیوبک میٹر تک سکڑ چکی ہے جو صرف ایتھوپیا جیسے انتہائی پسماندہ ملک سے بہتر ہے۔ پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

اسی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کی دستیابی کی صورتحال بتدریج خراب ہوتی جا رہی ہے۔ کل تک پاکستان پانی کی وافر مقدار رکھنے والے مملک کی صف میں شامل تھا لیکن آج یہی ملک پانی کی کمی والے ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔ جس پاکستانی شہری کو 1990 میں 2172 کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا آج وہ 1306 کیوبک میٹر پانی پہ گزارہ کرنے پہ مجبور ہے۔

اقوا متحدہ کے ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی اور 2025 تک پانی کی دستیابی میں 14.2 فیصد تک اضافہ نہ کیا جا سکا تو روز بروز بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کسی طور پہ پوری نہیں کی جا سکیں گی۔

:پینے کا پانی بھی نایاب

وطن عزیز میں اس وقت بھی 2 کروڑ 72 لاکھ افراد ایسے ہیں جنہیں جو پانی دستیاب ہے وہ بھی صاف نہیں بلکہ آ لودہ ہے جبکہ 5 کروڑ 27 لاکھ لوگ صفائی کے لفظ سے نا آشنا ہیں۔ آلودہ پانی اور صفائی کی ابتر صورتحال 70 فیصد بیماریوں کی بڑی وجہ گردانی جاتی ہے اور پانچ سال سے کم عمر کے سالانہ 39 ہزار بچے رگوں میں اترنے والے آلودہ پانی کے باعث ہمیشہ کے لئے سانس لینے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے لے کر زیر زمین پانی کی سطح گرنے جیسے عوامل کے باعث جہاں پانی کی دستیابی ملک کے ترقی یافتہ علاقوں میں بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے وہیں پسماندہ علاقوں میں تویہ نعمت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔

اسلام آباد ،لاہور ،کراچی ،کوئٹہ اورپشاور جیسے بڑے اور جدید شہروں میں اگر لوگ پانی خریدنے پہ مجبور ہو چکے ہیں تو جنوبی پنجاب جیسے پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ تین ڈویژنوں بہاولپور، ڈیرہ غازیخان اور ملتان پہ مشتمل جنوبی پنجاب جس کی آبادی تقریبا تین کروڑ کے لگ بھگ ہے ،اس میں پینے کے ساتھ زرعی استعمال کے لئے بھی پانی کا بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے جس کا خمیازہ اس علاقے کے عوام کو صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل اور زرعی پیداوار کی کمی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اگر پینے کے پانی کا ذکر کیا جائے تو جنوبی پنجاب میں کوہ سلیمان کی پٹی میں واقع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ سے لے کر روجھان مزاری تک اور بہالپور کے ساتھ واقع چولستان میں آج بھی انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ سے پانی پی رہے ہیں ۔ یہ وہی پانی ہے جو بارش ہونے کی صورت میں حوض بنا کر جمع کیا جاتا ہے جو چند دنوں میں ہی ایک گندے جوہڑ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح بھی سینکڑوں فٹ گہرائی میں ہونے کے باعث خصوصی واٹر پمپ یا ٹربائینیں لگا کر پانی نکالا جا سکتا ہے جبکہ اس پانی میں بھی مختلف دھاتیں شامل ہونے کی وجہ سے پینے کے لیےاس کا معیار تسلی بخش نہیں ہے۔

:حکومت پنجاب کا صاف پانی کا منصوبہ ٹھپ 

میٹھے پانی کے حصول کے لئے ان علاقوں میں آج بھی مشکیزے کی مدد سے گہرے کنووں سے پانی نکالنے اور سر پہ گھاگریں رکھے پگڈ نڈیوں پہ چلتی خواتین کے مناظرعام ہیں۔ جنوبی پنجاب کے باسیوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لیےپنجاب حکومت نے اربوں روپے کی لاگت سے صاف پانی منصوبہ بھی شروع کیا لیکن اس میں وسیع پیمانے پہ بد عنوانی کی شکایات سامنے آنے پر تحقیقات جاری ہیں اور منصوبہ حسب روایت ٹھپ ہو چکا ہے۔ منصوبے کی ناکامی کی بڑی وجہ اس پر عمل درآمد کے لئے نجی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنا ہے۔ تونسہ شریف اور روجھان مزاری جیسی جنوبی پنجاب کی انتہائی پسماندہ تحصیلوں میں پانی کی دستیابی کے لیے بعض غیر سرکاری تنظیمیں بھی کردار ادا کر رہی ہیں لیکن مقامی باسیوں کی زندگی دن بدن مذید اجیرن ہوتی جا رہی ہے۔

جنوبی پنجاب کی خواتین سروں پر گڑھے اٹھائے پانی کی تلاش میں:فوٹو کریڈٹ ہارون بلوچ

جنوبی پنجاب کی آبادی کی اکثریت کا انحصار زراعت اور مویشی پالنےپرہے ۔ باقی ماندہ پنجاب کی طرح اس علاقے میں بھی آبپاشی کا صدیوں پرانا نظام رائج ہے جس میں فراہم کئے جانے والے مجموعی پانی میں سے کھیتوں تک پہنچنے والے پانی کی مقدار نصف رہ جاتی ہے ۔

انڈس بیسن اریگیشن سسٹم کے تحت دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کو نہروں کے وسیع جال کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ 16 لاکھ کلومیٹر پہ مشتمل آبپاشی کے اس وسیع نظام میں 61 ہزار سے زیادہ چھوٹی بڑی نہریں ہیں جہاں سے گیٹڈ اور نان گیٹڈ اسٹرکچرز کے ذریعے پانی واٹر کورسز یا مقامی زبان میں کھا لوں کے ذریعے کھیتوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں زمینی پانی کی سطح بہتر ہے وہاں ٹیوب ویل بھی لگائے گئے ہیں جو سرکاری شعبے میں ساڑھے بارہ ہزار جبکہ نجی شعبے میں چار لاکھ سے زیادہ ہیں لیکن دریاؤں کی رسائی سے دور ہونے کے باعث جنوبی پنجاب کی کوہ سلیمان اور چولستان کی پٹی میں آبپاشی کا بھی کوئی نظام کام نہیں کررہا جس کی وجہ سے متعلقہ آبادی کا مکمل انحصار باران رحمت پہ ہی ہے۔

:زرعی استعمال کے پانی پر وڈیروں کی اجارہ داری

آبپاشی کے نظام کے تحت زرعی استعمال کے لئے دستیاب پانی پہ بھی جاگیر دار ،وڈیرے، سیاست دان، طاقتور یا اثر و رسوخ رکھنے والے اجارہ داری قائم رکھے ہوئے ہیں۔ سرکاری کاغزات میں اگرچہ ہر کسان کو اس کی ملکیتی یا زیر کاشت زرعی زمین کے تناسب سے پانی کی فراہمی کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اسے اتنا پانی بھی نہیں ملتا جس سے اس کے زیر کاشت کھیت سیراب ہو سکیں۔

آباد کاروں اور قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرنے والوں کو زمینیں بھی آبپاشی نظام کے آخری سرے ( ٹیلوں) پہ الاٹ کی گئی ہیں جہاں تک پانی شاذو نادر ہی پہنچتا ہے۔ ان علاقوں میں محکمہ آبپاشی کے حکام کی جاگیرداروں ،وڈیروں اور با اثر افراد کے ساتھ گٹھ جوڑ معمول کی بات ہے جس سے پانی کی فراہمی کے ضمن میں چھوٹے کسانوں کا بدترین استحصال جاری ہے تاہم نظام کے انتہائی پیچیدہ ہونے کی وجہ سے متاثرین کی کہیں شنوائی بھی نہیں ہوتی۔ درکار ضروریات کے مطابق پانی کی عدم دستیابی کے باعث انفرادی نقصانات کے ساتھ مجموعی زرعی پیداواربھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے جس کا واضح ثبوت گزشتہ سال کپاس کی فصل میں 27.8 اور چاول کی فصل میں 2.7 فیصد رکارڈ کمی ہے۔

دوسری طرف پانی کے مناسب ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب سے بری طرح متاثر ہونےو الے علاقوں میں بھی جنوبی پنجاب سر فہرست ہے جہاں سیلاب کی صورت میں 80 فیصد رقبہ زیر آب آ جاتا ہے اور صرف فصلوں کی تباہی سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 250 سے 300 ارب روپے تک جا پہنچتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں پینے سے زرعی استعمال اور عدم دستیابی سے سیلاب تک ،پانی جنوبی پنجاب کا انتہائی سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس پر قابو پانے کے لیے جامع پالیسی کے تحت ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ پانچ دریاؤں کی سرزمین کا یہ جنوبی حصہ بتدریج بنجر ہوتا جائے گا۔

کالم نگار کا تعارف:ارشد وحید چودھری جیونیوز کے نمائندہ خصوصی اور جنگ اخبار کے کالم نگار ہیں۔

@arshad_Geo ٹوئٹر اکاؤنٹ

LEAVE A REPLY