قادر بخش سنجرانی

وطن لائیبریری خدابادان پنجگور جس کا افتتاح 2007 کو صوبائی وزیر سوشل ویلفئیر میراسداللہ بلوچ نے کیا تھا جس وقت وہ ضلعی ناظم تھے اور یہ لائیبریری بھی اسی کے فنڈز سے تعمیر ہوئی تھی وطن لائیبریری کا سالانہ بجٹ تنخواہوں کے علاوہ 5 لاکھ   سے اوپر ہے لیکن اتنی بڑی بجٹ کے باوجود لائیبریری کی حالت قابل رحم ہے مین  اور ہال کے دروازے ٹوٹ چکے ہیں پورے ہال میں صرف ایک پھنکا کارآمد ہے ٹیوب لائٹس جل چکے ہیں لائیبریری میں پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے.

فرنیچرز 2007 کی ہیں ٹیلی فون بند ہے بجلی کا میٹر تاحال لائیبریری کے نام منتقل نہیں ہوا ہے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ لائیبریری صرف بجٹ کے لیے موجود ہے اگر یہ کسی علمی سرگرمی کے لیے وقف ہوتا تو اس میں کم ازکم بجلی، پانی اور ٹیلی فون کا نظام تو درست ہوتا ہال میں پھنکا صرف ایک ہے باقی پھنکے خراب ہیں اب جبکہ لوگ سی ایس ایس پی سی ایس اور ایس ایس ٹیز کی تیاریوں میں لگ چکے ہیں انھیں ان کے اپنے شہر میں تیاریوں کے حوالے سے کوئی مناسب جگہ دستیاب نہیں ہے جہاں وہ اجتماعی سطح پر بیٹھ کر امتحانات کی تیاریاں کرلیں ظاہر ہے اس شدید گرمی میں بند کمرے میں وہ بھی بغیر پھنکا کے کیسے بیٹھا جاسکتا ہے پنجگور میں ایجوکیشن ہر سطح پر زیر عتاب ہے.

وطن لائیبریری کی بجٹ کئی ماہ پہلے ریلیز ہوچکا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے ٹیلی فون سالانہ 50 ہزار ،ڈاک کی مد میں 3 ہزار، ٹرانسپورٹیشن 17 ہزار، کنونس چارجز 3 ہزار، اسٹیشنری 30 ہزار ،پرنٹنگ اینڈ پبلشنگ 15 ہزار، کتاب رسالے اخبارات 4 لاکھ، ساحر اخراجات کے لیے 20 ہزار، ریفیئر اینڈ منٹینس 35 ہزار، مشینری اور ایکوپمنٹ 15 ہزار اور فرنیچرزاور فکسچر 20 ہزار سالانہ مختص ہیں لائیبریری کی حالت کو اگر دیکھا جائے تو نہیں لگتا ہے کہ یہ اس قدر امیر ہے اسی طرح پنجگور کی دیگرلائیبریاں کم وبیش اسی حال میں ہونگے جس حال سے وطن لائیبریری کو دوچار کردیا گیا بڑی دلچسپی کی بات یہ ہے کہ 8 گریڈ کا ادنی ملازم تمام معاملات کو ڈیل کررہا ہے حتیٰ کہ 16 گریڈ کے آفسر بھی اسی کو جواب دہ ہوتے ہیں

LEAVE A REPLY