نیاز لاشاری

گل شیر اپنی پانچ بیٹیوں اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ۔ تصویر: نیاز لشاری

اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں جہاں ایک طرف انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے دور افتادہ علاقوں سےمعیشت اورکاروبارکی باتیں کی جارہی ہیں تو وہاں جنوبی پنجاب کی بیٹیاں آج بھی ونی یاسوارا جیسی فرسوودہ رسومات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے تمن بزدار کی حدود تھانہ زین میں اسلحہ چوری کے ایک کیس میں غیرقانونی جرگہ نے گل شیر نامی مبینہ چور کے ہاتھ باندھ کر پانی کے گھڑے میں ڈالا اورفرسودہ قبائلی رسم کے مطابق جرم ثابت ہونے پر اس پر پچاس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ مرتا کیا نا کرتا، گل شیر نے اپنا گھر اور مال مویشی بیچے بمشکل دس لاکھ ہی اکٹھے کرسکا جوکہ ادا کرنے کے بعد بھی چالیس لاکھ روپے کا مقروض ٹھرا،بےرحم جرگہ نے گل شیرکی پانچ بیٹیاں ونی کرنے کی سزا سناڈالی۔ صوبائی حکومت کے نوٹس لینےکے باوجود کسی سرکاری اہلکار نےمعاملےکی نوعیت جاننے کےلئےقطعاً رابطہ نہیں کیا اور تاحال گل شیر اپنےاہلیخانہ اور ونی شدہ بچیوں سمیت گھرسے دربدر انصاف کا منتظر ہے۔

ظلم کی داستاں یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ جس دن سے وزیر اعلی شہباز شریف نے نوٹس لیا ہے علاقہ کے بااثر افراد مذید طیش میں آگئے ہیں اور متاثرین کو معاملہ دبانے کےلئے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔جبکہ گل شیر کو مجبور بھی کیا جارہا ہےکہ وہ اپنی پانچوں بیٹیوں کو فوری ونی کرتے ہوئےجرگہ کے حکم کی تعمیل کرے۔اذیت میں مبتلا گل شیر کاخاندان فاقے کرنے پر مجبور ہے۔

ملک کا قانون تعذیرات پاکستان کی شق310 اے کے تحت ونی ایک سنگیں جرم ہے جسکی سزا تین سے دس سال مقرر ہے۔مگر بدقسمتی سے جنوبی پنجاب میں ونی جیسی فرسودہ رسومات کے تحت بےدردی سے کم عمر لڑکیوں کو جسمانی حوس کا نشانہ بنا کر انکی زندگیاں تباہ کی جارہی ہیں اور قانون اور عوام کے رکھوالے دونوں خواب خرگوش کے مزے اڑا رہے ہیں۔

یہ تمام تر صورتحال سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آیا ریاست اب اتنی کمزور ہوچکی ہے اوراسکے مقابلے میں غیرقانونی جرگہ اور اسکے ممبران اتنے بااثر ہوگئے ہیں کہ ملک کی بیٹیوں کو تحفظ بھی فراہم نہیں کرسکتی۔ گل شیر اور اسکے جیسے دیگر کیسز میں بارڈر ملٹری پولیس کا کردار بھی انتہائی غیرقانونی اور شرم انگیز دکھائی دیتاہے۔گل شیر کے کیس میں تھانہ زین کے اعلی اہلکار نے مکمل طور پر واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔اور دعوی کیا ہے کہ متعلقہ تھانے کی حدود میں ایسا کوئی واقعہ سر زد ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ مقامی ایڈوکیٹ فرحان ملک سمجھتے ہیں کہ اس کیس کی انکوائری اس وقت تک منصفانہ نہیں ہوسکتی تھی جب تک تھانہ زین کا ایس ایچ اواپنی کرسی پر براجمان تھا،جوکہ خود بطور فریق متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دے رہا تھا۔

بارڈر ملٹری پولیس کے اس رویے سے تنگ آکر مقامی لوگوں کا مطالبہ بھی ہے کہ جنوبی پنجاب کے ٹرائیبل ایریامیں اس سسٹم کی کوئی گنجائش نہیں ہےکیونکہ اس طرح کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں اور یہ فورس ونی جیسی جاہلانہ رسومات کی بیخ کنی کے بجائے انہیں فروغ دینے میں بھرپورکردار ادا کررہی ہے، اسکی وجہ علاقہ کے بااثر افراد ہیں جنہوں نے بارڈر ملٹری فورس کو گھر کی باندی بنایا ہوا ہے۔دوسری جانب اس ادارے میں جب بھی کوئی بھرتی ہوتی ہےتو مقامی سردار یا وڈیرے کے حامیوں کو نوکریاں بانٹی جاتی ہیں اور میرٹ کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔

معروف سماجی رہنما ثمر من اللہ کہتی ہیں کہ فرسودہ ونی یا سوارا پر وہ کافی عرصے سے کام کر رہی ہیں۔اور سمجھتی ہیں کہ ونی کی گئی بچیوں کو فوری طور پربچانا بہت ضروری ہوتاہے۔ جبکہ تونسہ شریف کے قبائلی علاقے میں جس نے بھی ونی کےحوالےسےفیصلہ دیا ہے سب سے پہلے انکو قانونی طور پر سزا ملنی چاہیے۔

پاکستان میں جرگہ یا پنچائیت کی طرف سے صدیوں سے رائج سوارہ یا ونی ایک فرسودہ رسم ہے، جس کے مطابق دوخاندانوں یا قبیلوں میں لڑائی جھگڑے یا قتل کے بدلے صلح کی خاطر رقوم، جائیداد نہ ہونے کی صورت میں بطور جرمانہ لڑکیوں کو متاثرہ فرد یا خاندان کو دے دیا جاتا ہے، پھر اس خاندان کی مرضی وہ ان لڑکیوں سے جو سلوک کرے۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے اندر کمزور عدالتی نظام اور انصاف کا حصول ناممکن ہونے کی وجہ سے لوگ عدالتوں کی بجائے ان جرگوں یا پنجائت کو ترجیح دیتےہیں جس میں انہیں انصاف فوری اور مرضی کا مل جاتا ہے۔ ونی کی بھینٹ چڑھنےوالی بچیاں زیادہ ترکم عمر ہی ہوتی ہیں جن کا تعلق غریب گھرانوں سے ہوتا ہے۔ دراصل ان غریب والدین کے پاس نقصان پورا کرنے کے لیے نقد رقم نہیں ہوتی جسکی وجہ سے وہ اپنی بچیوں کو ونی کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ بعض اوقات تو پیٹ میں پرورش پانے والی بچی کو بھی ونی کردیاجاتاہے۔ جبکہ بعض کیسز میں والدین نہیں چاہتے کہ انکی بچیاں ونی کر دی جائیں لیکن جرگےکے بےجادباو کے پیش نظر متاثرین جرگہ خاموشی سےجرم کی دلدل میں کودنےپرمجبور ہوجاتے ہیں۔ اکثرکیسز میں تو ونی قرار دی گئی لڑکیاں جنسی تسکین کے لئے بڑی عمر کے مردوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہےکہ فرسودہ رسوم ونی یاسوارا کی تین اقسام ہیں۔

یکطرفہ ونی یاسوارا

دو طرفہ ونی یا سوارا

تین طرفہ ونی یا سوارا

پہلی قسم میں ایک خاندان کی لڑکی کو ونی کرکے دوسرے خاندان کو دیا جاتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ونی کی گئی لڑکی پر ظلم وتشدد کیا جاتا ہے۔اور قتل سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔جسکی مثال16جون 2015 کو دیکھنے میں آئی جب جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ کے نواحی علاقے کوٹ سلطان میں ونی کا شکار ایک خاتون کو اس کے شوہر نے مبینہ طور پر تشدد کر کے قتل کر دیا۔مقتولہ کی شادی عبدالمجید نامی شخص کے ساتھ مقامی پنچائیت کے فیصلے پر ہوئی کیونکہ عبدالمجید کی بہن نے مقتولہ کے بھائی کے ساتھ گھر چھوڑکر شادی کر لی تھی۔

دو طرفہ ونی میں دونوں خاندان ادلے بدلے میں لڑکیوں کو ونی کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک لڑکی کو اگر ونی کیا گیا تو اس سے برتاو ٹھیک نہیں کیا جائے گا، یہی وجہ ہے کہ دونوں خاندان ایک دوسرے کی لڑکیوں کو ونی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ بعض اوقات ونی کرنے کے بعد اگر ایک خاندان لڑکی پر ظلم وتشدد کرتا ہے تو دوسرا خاندان بھی اسی نوعیت کابدلہ لیتا ہے۔

ونی کی تیسری قسم میں ایک خاندان کی ایک سے زائد لڑکیوں کو ونی کیاجاتاہے اور رقم، زمین اورجائیداد الگ ہتھیائے جاتےہیں۔

جہاں شہروں میں لڑکیوں کو تعلیم اور ٹیکنالوجی کے زیور سے آراستہ کرکےانہیں بااختیار بنایاجارہا ہےتو دوسری طرف ملک کے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والےگل شیر کی بیٹیوں کا کیا قصور ہےکہ ریاست انکے حقوق کے تحفظ سےانکاری نظر آتی ہے،کیاگل شیر کی بیٹیاں اس ملک کی شہری نہیں یا ریاست کے قانون کی رٹ صرف اسلام آباد، لاہوریا کراچی تک ہی محدود ہے؟

کالم نگار کے بارے میں: نیاز لاشاری جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ہیں، اور مقامی مسائل کو قومی میڈیاپر اجاگر کرتے رہتے ہیں۔

LEAVE A REPLY