صہیب اقبال

راجن پور ، مظفرگڑھ ، ڈیرہ غازی خان ، بہاولنگر اور ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں خواتین تاحال عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ابھی بہت سے مضافاتی علاقوں میں خواتین پر تشدد اور ہراسمنٹ کے کیس سامنے آتے ہیں جبکہ متعدد تو کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے ۔ جو حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

ملازمت پیشہ خواتین کی بات کریں تو ان کے بھی مسائل موجود ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے صوبائی محتسب پنجاب اور پنجاب کمیشن برائے انسانی حقوق نسواں جنوبی پنجاب بنانے گئے یہ ادارے بھی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔

کمشنر ملتان کی ترجمان ارم سلیمی نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے 25 مارچ کو انسداد تشدد مرکز برائے خواتین ملتان کا قیام عمل میں لایا جائے جنوبی ایشیا میں خواتین کے تشدد کے خاتمے کا پہلا مرکز قرار دیا گیا ۔ ابتدا میں مرکز کی براہ راست نگرانی اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب کرتے رہے اور اس دوران سات ہزار متاثرہ خواتین نے ادارے کا رخ کیا ۔ یہ ادارے ناصرف ملتان بلکہ جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع کی خواتین کی داد رسی کے لیے بنایا گیا ہے ۔

سماجی رہنما دعا بخاری نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ادارے کے مختلف شعبہ جات میں تقرریاں عمل میں نہیں لائی جاسکیں اور نہ ہی دیگر محکموں سے آنے والے افسران و ملازمین کو اعلانات کیمطابق تنخواہیں اور سہولیات دی گئی اب کو حکومت نے ادارے کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔

انسداد تشدد برائے خواتین کی افسر منزا بٹ نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت نے خواتین کے اس ادارے کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت نے 9 ماہ میں کوئی فنڈز جاری نہیں کیے نہ ہی ملازمین کے کنٹریکٹ جاری کیے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تشدد کا شکار خواتین کو بھی بے یارو مددگار گیا ہے کیونکہ وکلاء کی فیسوں کہ ادائیگی کے لیے رقم نہیں جبکہ ادارے کے ملازمین کو تنخواہیں بھی نہیں دی جارہیں جبکہ گیس اور بجلی کے بل بھی ادا نہیں کیے گئے جس پر ملازمین بھی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

 

کمشنر ملتان عمران سکندر بلوچ نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسداد تشدد برائے خواتین مرکز کی مشکلات بارے علم ہے تما صورتحال کے حوالے سے اعلی حکام کو آگاہ کردیا ہے جیسے سے فنڈز جاری ہونگے ملازمین کی تنخواہوں سمیت تمام انتظامی مشکلات حل کرلی جائیں ۔ ادارے کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کا یہ ادارہ حکومت کی عدم دلچسپی کا شکار ہے اس حوالے سے نئی حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور مالی معاملات حل کرکے ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہیے۔

LEAVE A REPLY