عطاالرحمان سمن

جنوبی پنجاب کا محل وقوع (پارٹ ٹو)

جنوبی پنجاب
یہ ملک کے امیر ترین اور سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ کا غریب ترین علاقہ ہے جہاں متواتر قدرتی آفات مثلاً قحط، اور سیلاب کے باعث آبادی مسلسل معاشی مشکلات کا شکار رہتی ہے۔ عصر حاضر میں جنوبی پنجاب کو پنجابی طالبان کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے۔سرحد وں سے دور دراز علاقہ جہاں رہائش کی خستہ صورت حال ہے بنیاد پرستی کی آبیاری اور انتہاپسندانہ سرگرمیوں کے لئے نہایت ساز گار ہے۔ یہ علاقہ صوفی ازم ، صوفی روایت اور دیگر مذاہب کے لئے روادری کے طور پر اپنی پہچان رکھتا تھا تاہم اب صورت حال اس کے بر عکس ہے ۔ ۔جنوبی پنجاب کا علاقہ غربت کا شکار جانا جاتا ہے اس کے کلیدی اضلاع جھنگ ، میانوالی ، خوشاب ، چنیوٹ، سرگودھا، بھکھر، لیہ، ڈیرہ غازی خان ، راجن پور اور مظفر گڑھ ہیں۔ اس علاقہ کی معیشت جاگیر داری ڈھانچہ پر ہے۔ اس صورت حال کی متعدد وجوہات ہیں جن میں معاشی، ترقیاتی اور تعلیمی وجوہات کلیدی ہیں ۔بنیاد پرستی اور انتہاپسندانہ سرگرمیوں کے انعقاد اور استحکام کے لئے ماحول کو سازگار بنانے والے عوامل میں غربت کلیدی عنصرہے۔ غربت کی شرح ڈیرہ غازی خان میں50.58فیصد، بہاولپور میں 39.86فیصد اور ملتان میں 38.91فیصد ہے۔ غربت کی یہ شرح عوام کی پست حال حالت کی غماض ہے ۔ چنانچہ علاقہ کی مذکورہ معاشی صورت حال بنیاد پرستی کی نمو کے لئے آئیڈیل ہے۔ایسے میں جب کسی علاقہ میں اُن کے مسائل کو حل کرنے کے ضمن میں حکومت کا کردار ختم ہو جائے تو دوسری طاقتوں کے لئے وہ خلا پر کرنے اور اپنا ایجنڈا بڑھانے کے لئے ساز گار ماحول ہو تا ہے۔
ایک رپورٹ (anzar, 2003) کے مطابق مدرسوں کو بیرونی امداد ملتی ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے وہ متعلقہ آبادیوں میں بنیاد پرستی کے بیج بوتے ہوئے انہیں اقتدار کی سیاست کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ہر فرقے کا اپنا تعلیمی نظام اور بنیاد پرستی کے رنگ میں ڈھالنے کے اپنے اپنے اسلوب و ہتھیار ہیں۔ ہر مکتبہ فکر کے ہاں خصوصی رضار اور حمایتی ہیں ۔ حاصل کردہ تعلیم اس قدر پیوست ہوتی ہے کہ نوجوان ان گروہوں کے ساتھ جڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں پاتا ۔ یہ مد رسے عبادت گاہ یا تعلیم دینے کا مرکز نہیں ہیں ۔ ۔ اِن مراکز کے ذریعے دنیاکو اپنے منصوبوں کے مطابق تبدیل کرنے کے لئے دماغ تیار کئے جاتے ہیں۔ یہاں انہیں طعام و قیام مہیا کرنے کے علاوہ مختلف گروہوں میں بھرتی کرنے کی بھی یقین دہانی کروائی جاتی ہے۔
پس ماندگی اور غربت جنوبی پنجاب کے کلیدی مسائل ہیں۔ دراصل اس علاقہ میں لسانی اور انتہا پسندانہ سرگرمیوں کے پیچھے غربت کا عنصر کار فرما ہے۔اس پر باقی پنجاب میں تیزی سے ترقی کے اشارے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ آبادیاتی توازن کو مد نظررکھا جائے تو جنوبی پنجاب کو دیگر پنجاب کے برابر ترقیاتی بجٹ دیا جانا چاہئیے ۔ غربت اور پس ماندگی کے مندرجہ زیل تین اثرات ہیں:
نسلی تقسیم
قیادت کا محران
مذہبی بنیاد پرستی
ان تین میں سے مذہبی بنیادپرستی کلیدی مسئلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ اِس کے باعث علاقہ کے معاشرتی تار پود کو ہلا کہ رکھ دیا ہے اوروہ ریاست کے لئے ایک خطرے کی صورت

اختیار کر رہا ہے ۔ بنیاد پرستی کے پس منظر می سماجی و سیاسی عوامل کار فرما ہیں ۔ تعلیم کی سہولیات کی عدم دستیابی، احساس محرومی ، معاشی تفاوت ، اور سماجی و سیاسی پس ماندگی کے باعث بھی ایسے گروہ وجود میں آئے ہیں۔ اشتراکیت کے خلاف جنگ دوران جہادی تربیت اور بھرتی کے لئے اُن علاقہ جات کا انتخاب کیا گیا جو سرحد کے قریب ، پسماندہ تھے۔ پاکستان میں شمال مغربی علاقے، سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقے اور جنوبی پنجاب ایسے علاقہ جات میں آتے ہیں ۔ غربت کے شکار عوام کے بچے فرقہ وارانہ اور دیگر بنیاد پرستی پر مبنی نظریاتی بیانیہ پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ریاست کی جانب سے فرقہ وارانہ تعلیم دینے والے مدرسوں اور نفرت انگیز تقاریر پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کے باعث علاقہ میں بنیاد پرستی کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔اِس علاقہ میں مبینہ طور پر کالعدم انتہاپسد تنظیموں کو فلاحی سرگرمیاں کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔ دوسری طرف اِن علاقوں میں دیگر سول سوسائٹی کی تنظیموں کو کام کرنے میں مشکل کا سامنا ہے ۔
تعلیم
تعلیم ترقی کی بنیادی اشارہ ہے ۔
علاقہ بچوں کا اندارج اساتذہ
جنوبی پنجاب 1,805,151 39,766
باقی پنجاب 3,231,651 80,734
ٹوٹل 5,036,801 120,500
صحت کی سہولیات
تعداد نسبت
جنوبی پنجاب 86 26.38%
باقی پنجاب 240 73.62%
ٹوٹل 326 100.00%
پنجاب ڈولپمنٹ اعداوشمار 2010
جنوبی پنجاب کی تین ڈوثزنز میں غربت
ڈوثزن فی صد
ڈی جی خان 50.58%
بہاولپور 39.86%
ملتان 38.91%
پنجاب ڈولپمنٹ اعداد و شمار 2010
معاشرتی عوامل
پاکستان کے قیام کے وقت غیر مسلم برادریوں کا تناسب 30فیصد کے قریب تھا ۔ نقل مکانی (جو تا حال جاری ہے) کے باعث یہ تناسب 3فیصد کے قریب رہ گیا ہے۔ اکثریتی برادری میں اِس عددی برتری کے باعث احساس تفاخر نے جنم لیا ہے۔ محمد علی جناح نے اِس ملک کو دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا تھا۔ استدلال یہ تھا کہ قو میت کی بنیاد مذہب ہے جب کہ کانگرس کے رہنماؤں (بشمول مسلمان رہنما ) کا موقف تھا کہ قومیت کی بنیاد وطن ہے۔ دو قومی نظریے کی بنیاد پر وطن حاصل کرنے کے بعد 11اگست 1947ء کو محمد علی جناح قائد اعظم نے نوزائیدہ ملک کی قومیت کی بنیاد مذہب کی بجائے وطن کو قرار دیا۔ تاہم اُن کے بعد کے رہنما اِس حکمت کو سمجھنے کی صلاحیت سے محر وم تھے۔ چنانچہ 1949میں قراردادِ مقاصد کے ذریعے قوم کا راستہ تبدیل کر دیا گیا ۔یہ قرارداد فانے کا ایک باریک سرا تھا جس کے بھیانک اثرات آنے والے وقت میں شہریوں کو بھگتنا پڑے۔

1973 میں ریاست کی معتبر ترین دستاویز میں ایک مذہب کے ماننے والے شہری دیگر کی نسبت معتبر ٹھہرے جس نے شہریوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیاز کا در کھول

دیا۔1980کی دہائی میں معاشرے میں انتہاپسند رجحانات کے لئے ذرائع ابلاغ کے ہر نوع کو استعمال کیا گیا ۔ درسی کتابوں میں سے مذہبی اقلیتوں کا ذکر غائب ہو گیا۔ اُن کے خلاف نفرت انگیز مواد کو درسی کتب کا حصہ بنایا گیا۔
چنانچہ ملک کی مذہبی اقلیتیں معاشرتی زندگی میں قومی دھارے سے جدا ہوتی گئیں۔ نفرت کی آبیاری کرکے آج ہم نے اپنا امن ، سکون اور احساس تحفظ داؤ پر لگا دیا ہے۔ جنوبی پنجاب باقی پنجاب کی نسبت ہر لحاظ سے پس ماندہ ہے ۔ چنانچہ 1997 میں یہاں پر خانیوال کے نواح میں مسیحی گاؤں شانتی کو جلا ڈالا گیا۔ اِس حملہ میں شانتی نگر کے علاوہ خانیوال اور ملحقہ دیہات میں بھی گر جا گھروں کو جلایا گیا۔ جانوروں کی ٹانگیں توڑ دی گئیں، باغات کو کاٹ دیا گیا، ٹریکٹر وں اور گاڑیوں کو جلا دیا گیا ۔ متعدد افرادکوزدوکوب کیا گیا ، بعض کی ٹانگیں اور بازو توڑ دئیے گئے۔بعد ازاں بہاولپور میں گرجا گھر میں عبادت کے دوران مسیحیوں پر اندھا دھند فائرنگ ، سانگلہ ہل، گوجرہ ، قصور ، ٹیکسلا ، اسلام آباد اور متعدد واقعات اقلیتوں کے لئے معاشرے میں کم ہوتی قبولیت اور گنجائش کا بیان ہیں۔
سیاسی عوامل
انتہا پسندانہ اور بنیاد پرستی کے نظریات کا تعلق جب اقتدار کی سیاست کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو ریاست کی بقا داؤ پر لگ جاتی ہے۔ معاشرتی زندگی میں انتہاپسند گروہوں کو گذشتہ تین دہایؤں میں جو طاقت حاصل ہوئی ہے اُس کا دائرہ اثر سیاسی ایوانوں تک بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ پنجاب میں سخت گیر موقف رکھنے والی مذہبی جماعتوں کا واضح جھکاؤ پنجاب کی موجودہ حکمران جماعت کی طرف ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیری لوگر بل کے تحت امداد کے بل کو غیرت کے سودے کے بدلے ملنے والی امداد قرار دیا تھا۔ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کا بھی ایسا ہی موقف تھا (جو افغان جہاد کے لئے ملنے والی امداد لیتی رہی تھیں)۔ پنجاب میں بر سر اقتدار سیاسی جماعت نے ماضی میں مرکزی حکومت سے محاذ آرائی کرتے ہوئے طالبان کو ختم کرنے سے گریز کیا ہے ۔ جنوبی پنجاب میں طالبان اور مقامی فرقہ پرست ساتھیوں کے خلاف کسی قسم کے آپریشن سے آمادگی سے انکار کی وجہ یہ بھی ہے کہ مذکورہ سیاسی جماعت کے قائدین کو اندیشہ ہے کہ یوں پنجاب میں مذہبی حلقوں کی حمایت ختم ہو جائے گی۔ علاقہ جات میں مذہبی انتہا پسندوں کی گرفت کا عالم یہ ہے کہ دسمبر2016میں حلقہ پی پی ۔78میں ضمنی انتخاب میں پنجاب کی حکمران جماعت کو ایک آزاد امیدوار مولانا مسرور نواز جھنگوی نے 12,793ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ مولانا کو کالعدم تنظیم اہل سنت الجماعت (ASWJ) کی حماعت حاصل تھی ۔ یاد رہے مولانا مسرور حق نواز جھنگوی صاحب مولانا حق نواز جھنگوی کے صاحب زادے ہیں جنہوں نے سپاہ صحابہ کی تشکیل کی تھی۔ فروری 2008ء میں شہباز شریف انتخابات میں حصہ نہیں لے پائے تھے تا ہم بعد ازاں جون 2008میں سید اکبر نیوانی نے حلقہ پی پی 48سے اپنی نشست شہباز شریف کے لئے خالی کی۔ ضمنی انتخابات میں شہباز شریف نے بلا مقابلہ منتخب ہونے کے لئے کالعدم جماعت اہل سنت ول جماعت (ASWJ) کی مدد حاصل کی گئی جس کا شہباز شریف نے باقاعدہ ان کا شکریہ بھی ادا کیا ۔(http://nawazsharifexposed.blogspot.com/2013/03/shahbaz-sharif-won-bhakkar-mpa-seat.html )
’’جنوبی پنجاب میں انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کی پنیری اگرچہ ضیاالحق دور میں تیار ہوئی اور اِس کی مناسب ’’دیکھ بھال‘‘ کرنے والوں میں پاکستان کے طاقت ور ادارے براہ راست شامل تھے لیکن بعد میں پنجاب میں سیاسی بالا دستی کی حامل بعض سیاسی جماعتوں نے بھی اسمبلی فلور پر حمایت اور پنجاب کے مخصوص اضلاع میں اپنی مخالف سیاسی جماعت کو دبانے کے لئے انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کو مقدور بھر استعمال کیا ۔ انھیں بے تحاشہ فنڈز فراہم کئے گئے اور مقامی سطح پر مخالفین کے قلع قمع کی اجازت دی گئی۔ مثال کے طور پر جھنگ اور قریبی اضلاع میں ایک کالعدم فرقہ پرست جماعت کے ایسے رہنماؤں کو مدد فراہم کی گئی جو نہ صرف خود منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچتے تھے بلکہ انتخابی معرکوں اور اسلام آباد کی مخالف حکومتوں کے خلاف تحریکات چلانے میں بھی ’’مدد‘‘ کرتے تھے۔ اِس تبظیم کے بعض ایسے افراد کو مقدمات سے محفوظ رکھا گیا جو پنجاب میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے فرقہ وارانہ قتل میں ملوث تھے اور اُن کے خلاف مضبوط گواہ بھی موجود تھے لیکن اِن سرکاری گواہوں کو عدالتوں میں بیان دینے سے روکا گیا ۔ دوسری طرف کئی گرفتار خطرناک قاتلوں کے پولیس کی حراست سے فرار میں بھی ’’مدد‘‘ فراہم کی گئی (پنجابی طا لبان صفحہ 195)۔
حکمران جماعت کے وفاقی وزیر داخلہ اور صوبائی وزیر قانون پر انتہا پسند تنظیموں سے رابطے کے الزامات زبان زد عام ہیں۔ ایک بین الاقوامی دہشت گرد ’’ بیت اﷲ مسعود ‘‘ کے ڈرون حملہ میں ہلاکت پر وزیر داخلہ کا قومی اسمبلی میں آنسو بہانا بھی ایک اشارہ ہے۔ ابھی کچھ دن کی بات ہے کہ وزیر داخلہ نے ایک سیاسی جماعت کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے سے روکنے کے لئے دفعہ 144کا نفاذ کر دیا تھا تا ہم اسی دفعہ 144کے دوران مذہبی جماعتوں کو جلسہ کرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔حال ہی میں وزیر داخلہ نے سینٹ میں فرمایا کہ

دہشت گرد تنظیموں اور فرقہ وارانہ تنظیموں میں فرق ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے 20نکاتی پروگرام میں فرقہ وارانہ تنظیموں کے خلاف کارروائی کا واضح اعلان شامل ہے تا ہم سیاست اور انتہاپسندی کے درمیان کچھ نہ کچھ تو ہے جس کی کی پردہ داری ہے۔
دہشت گردی اور جنوبی پنجاب
مجاہد حسین کی کتاب پنجابی طالبان (ملتان ڈویژن صفحہ 98) کے مطابق پنجاب میں فرقہ وارانہ قتل وغارت کے حوالے سے سب سے نمایاں ملتان ڈویژن ہے جس کے مختلف اضلاع میں لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد نے کئی برس حکمرانی کی ہے۔سینکڑوں افراد کو ملتان ، مظفر گڑھ ،خانیوال میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کیا گیا ۔ لشکر جھنگوی نے ملتان میں ایرانی کلچرل سنٹر خانہ فرہنگ پر حملہ کر کے اُس کو تباہ کر دیا ۔ امام بارگاہوں ، مساجد اور دیگر اہم مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ۔ لشکر جھنگوی کے گرفتار فرقہ پرستوں ملک محمد اسحاق اور اکرم لاہوری نے اپنے اعتراف میں ملتان ، مظفر گڑھ ، خانیوال اور دیگرعلاقوں میں درجنوں قتل کی وارداتوں اور حملوں کا اعتراف کیا۔
ملتان کے رہائشی مولانہ علامہ مسعود علوی کو پاکستان میں جہاد کا بانی کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں سب سے پہلی جہادی تنظیم جمعیت المجاہدین کی تشکیل انہی کے ہاتھوں ملتان کے خیر المدارس میں ہوئی۔ فرقہ وارانہ حوالے سے مولانہ حق نواز جھنگوی کا نام بہت مشہورہے جن کا تعلق خانیوال سے شمال مغرب 15کلومیٹر پر واقعہ قصبہ کبیر والہ سے ہے۔انہوں نے 1980کی دہائی میں انجمن سپاہ صحابہ کی بنیاد رکھی۔ڈیرہ غازی خان دویژن چاروں صوبوں کے سنگم پر واقع ہے جس کے شمال میں خیبر پختونخواہ ، جنوب میں سندھ ، مشرق میں بلوچستان اور مٖغرب میں دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ صوبہ سندھ کی سرحدیں ملتی ہیں ۔ تخریب کار کاررووائی کرنے کے بعد قبائلی علاقوں میں روپوش ہو جاتے ہیں۔
کئی سال قبل پاکستان کے خفیہ ایجنسیوں کی ایک رپورٹ (پنجابی طالبان ، صفحہ123) کے مطابق طالبان جنوبی پنجاب میں جڑ پکڑ رہے ہیں۔ اور قبائلی علاقوں میں موجود شد پسندوں میں پنجابی طالبان شامل ہو گئے ہیں۔جنوبی پنجاب کے بعض جگہوں پر طالبان نے حجاموں اور سی ڈیز کے کاروبار کرنے ولاوں کو دھمکی دی ہے جبکہ علاقوں میں شادی بیاہ کے موقع پر ڈھول بجانے ’’گیت ‘‘ گانے پر پابندی ہے جس سے لگتاہے کہ شدت پسندوں نے اِس علاقہ میں اپنی طاقت کو بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
30جولائی 2009ء کو ملتان ڈوثرن کے ضلع مظفر گڑھ میں تقریباً 200دکانداروں اور 35تعلیمی اداروں کو خطوط ملے جن میں انہیں کہا گیا تھا کہ جتنی جلدی ہو سکے اپنے آپ کو شرعی ماحول میں ڈھال لیں اور غیر اسلامی طور طریقے ترک کر دیں ۔ بعد ازاں علوم ہو ا کہ مذکورہ خطوط سوات اور قبائلی علاقوں میں ’’جہاد‘‘ کے بعد وطن لوٹنے والوں کی طرف سے یہ خطوط بھیجے گئے تھے۔ ضلع مظفر گڑھ کوٹ ادو میں خواتین کے تعلیمی اداروں اور عام گھریلو اور ملازم پیشہ خواتین کو خبردار کیا گیا کہ اگر وہ پردے کے بغیر گھر سے باہر نکلیں تو چہروں پر تیزاب ڈال دیا جائے گا۔ کوٹ ادو کی خواتین کو پردے کی پابندی اختیار کرنے کے لئے پانچ دن کی مہلت دی گئی جبکہ مظفرگڑھ کے تاجروں اور دیگر کاروباری افراد کو 24گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا ۔ مقامی پولیس نے ان خطوط کو مبہم قرار دے کر قابل تفتیش نہ سمجھا۔ (پنجابی طالبان ، صفحہ103)
13جولائی 2009کی صبح جنوبی پنجاب کے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں کے نواحی گاؤں چک نمبر129/15.Lمیں کالعدم انتہا پسند سپاہ صحابہ کے رکن ریاض علی کے گھر اور مدرسے میں دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے سترہ(17)افراد ہلاک اور150کے قریب زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ جنوبی پنجاب میں انتہا پسند گروہوں کے مضبوط نیٹ ورک کا ثبوت ہے۔
درجنوں انتہاپسند جن کے سروں پر حکومت نے لاکھوں روپے انعا م مقرر کیا تھا کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے ۔ بہاولنگر سے تعلق رکھنے والا شکیل ، ملتان کا قاری اکرم عرف اکرام، مظفرگڑھ کا شاہنواز ، ملتان کا شہاب الدین ، رحیم یار خان کا احسن شاہ، فورٹ عباس کا نصر اﷲعرف فضل الرحمن، بہاولنگر کا حاجی عبدلمنان، لیہ کا عبدالماجد ، کوٹ سلطان لیہ کا حفیظ اﷲ عرف اسرار ، لیہ کا حفیظ الرحمن ، ملتان عبدالواحد ، جھنگ کا ظفر اقبال عرف بالا ، ڈیرہ غازی خان کا قاری رمضان قیصرانی ، خیر پور ٹامیوالی کا ذکریا ، وہاڑی کا انیس الرحمن ، بہاولپور کا مولوی جلیل احمد ، بہاولنگر کا گوہر اقبال ، احمد شرقیہ کا مولانا عبداﷲجان ، سرائے سادھو ضلع خانیوال کا قاری عبداﷲ قیوم ، بہاولپور کا محمود احمد عرف سہیل ، خیرپور ٹامیوالی کا اسلم ، جھنگ کا ابوبکر اور وہاڑی کا اکرم حبیب اور خانیوال کا قاری حیات اُن میں چند کے نام ہیں۔ لشکر جھنگوی کے بانی صدر ملک اسحاق رحیم یار خان کے رہنے والے ہیں ۔ورجینیا میں سی آئی اے کے ملازمین کو قتل کرنے والا ایمل کانسی جنوبی پنجاب کے ایک شہر سے پکڑا گیا تھا۔بہاولپور ڈوثزن کے اضلاع بہاولپور ، رحیم یار خان اور بہاولنگر جہادی سرگرمیوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے حوالے سے اہم ترین اضلاع ہیں۔2004ء میں فیصل آباد کے ایک مدرسے سے گرفتار ہونے والااسامہ نذیر کا تعلق بہاولپور سے تھا۔ اُس پر امریکی سفارت کار اور دیگر افراد کے قتل ، پروٹسٹنٹ چرچ اسلام آباد میں حملہ (17مارچ2002 )

رینجرز کی رپورٹ
رینجرز نے سات صفحات پر مبنی ایک ابتدائی رپورٹ تیار کی جسے فوج، محکمہ داخلہ اور مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں کو بھجوایا گیا۔ رپورٹ میں پنجاب ضلع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اُس علاقہ کی نشاندہی کی گئی ہے جو جنوبی وزیر ستان سے شروع ہوتا ہے اور بلوچستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ سندھ کے علاقے کشمور تک پہنچتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جنوبی وزیرستان سے شدت پسند اس علاقے میں آسانی سے داخل ہوتے ہیں اور یہیں پر اِن کے ٹریننگ سینٹر بھی موجود ہیں۔ ڈی جی رینجرز کے مطابق اس علاقہ میں شدت پسند اکٹھے ہوتے ہیں ۔ مدرسے انہیں مدد فراہم کرتے ہیں ۔ ان کی تربیت کی جاتی ہے اور فاٹا کے عسکریت پسندوں سے اُن کے براہ راست رابطے ہیں۔ (پنجابی طالبان ، صفحہ 129)
سفارشات
*دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا دائرہ کار بلا تخصیص عسکریت پسندوں کے تمام گروہوں کے خلاف ہونا چاہئے۔ پاکستان کی سرزمین پر قیام کر کے دیگر ممالک میں کارروائیاں انجام دینے والوں اور جنوبی پنجاب میں مراکز بنانے والوں کے خلاف یکساں یکسوئی سے کارروائی کی جائے
* انسداد دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کئے جانے والے اقدامات میں عدلیہ ، جوابدہ صوبائی پولیس فورس کو و سائل مہیا کیا جائیں۔
* انسداد دہشت گردی ایکٹ اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 کے تحت بلیک لسٹ کئے گئے مدرسہ جات ، مساجد اور چیرٹی کے ادارے جن کے تعلق مسلح عسکریت پسندوں ، کالعدم گروہوں یا جن کے افراد تشدد کی ترغیب دیتے ہیں اُن کی نگرانی کی جائے ۔ جس کا آغاز جنوبی پنجاب سے کیا جائے ۔
* نفرت پر مبنی لٹریچر، مدرسہ جات اور مساجد اور دیگر مقامات اور فورمز پر نفرت پر مبنی تقاریر کو روکنے پر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ بشمول تمام انتہا پسند رہنماؤں کے خلاف کارروائی جن پر نفرت انگیز تقاریر کا الزام عائد ہے۔
* پاکستانی معاشرہ کو کثیر المذاہب اور کثیر الثقافت قرار دے کر اسی تناظر میں پالیسیاں وضع کی جائیں۔
* دستور میں دئیے گئے انسانی حقوق کو بین الاقوامی انسانی حقوق، انسانی حقوق کے معاہدات اور عالمی انسانی حقوق کے منشور کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔

LEAVE A REPLY