عطاالرحمان سمن

جنوبی پنجاب کا محل وقوع (پارٹ ون)  

جنوبی پنجاب کے علاقہ کی کوئی حدود متعین نہیں ہیں ۔ پنجاب کو 9انتظامی ڈویثزنز میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کو 36اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 9 میں سے مندجہ ذیل 3 ڈوثزن جنوبی پنجاب کا علاقہ جانی جاتی ہیں۔
1۔ ملتان ڈوثزن
2۔ بہاولپور ڈوثزن
3۔ ڈیرہ غازی خان ڈوثزن
جنوبی پنجاب کا یہ علاقہ 11اضلاع پر مشتمل ہے جو پنجاب کے کل علاقہ کا 48.5%ہے۔ چنانچہ یہ پنجاب کا تقریباً نصف حصہ بنتا ہے ۔ یہاں پر فی کس آمدنی نہایت کم اور آبادی شہری سہولتوں سے محروم ہے(پنجاب ڈولپمنٹ شماریات)۔
باقی پنجاب کے مقابلہ میں جنوبی پنجاب غربت اور محرومی کا شکار ہے ۔

جنوبی پنجاب میں مذہبی رواداری کی تاریخ

70کی دہائی تھی۔ تحصیل میاں چنوں کے نواحی گاؤں چک نمبر 135/16.Lسٹونزآباد کے رہائشی زمیندار ٹھیکید ار جمیس تھے ۔ علاقہ بھر میں نہایت جانی مانی شخصیت تھے۔ سٹونزآباد کے ساتھ ملحقہ گاؤں 136/16.Lمیں ایک مسلمان زمیندار لال خان (پٹھان)ہوا کرتے تھے۔ لال خان کے بچے ٹھیکدار جیمس کو چاچا کہہ کر پکارتے تھے۔اُن دونوں خاندانوں کا آپس میں بھائی چارہ مثالی تھا۔ لوگ بتایا کرتے تھے کہ ٹھیکید ار جیمس اور لال خان نے ’’پگ وٹائی‘‘ ہوئی ہے۔ ’’پگ وٹانا ‘‘رسم میں دو افراد ایک دوسرے کی پگڑی پہن لیتے اور اس رسم کے باعث وہ ایک دوسرے کے بھائی بن جاتے تھے۔ یہ رسم سماجی تعلقات میں ہم آہنگی اور تنوع کی نہایت اعلیٰ مثال تھی۔ علاقہ میں ایسی دیگر مثالیں بھی موجود تھیں جو پنجاب اور اِس علاقہ کی سماجی بُنت کی عکاس تھیں۔ یہ تصویر 70کی دہائی کے پنجاب کی ہے ۔ تا ہم آج یہ سماجی حقیقت اور محض ایک خواب لگتا ہے ۔ملتان شہر اولیا اکرام کا شہر کہلاتا ہے جہاں صوفی بزرگوں نے معاشرے میں امن سلامتی، بھائی چارے اور قبولیت کی تعلیم دی ۔ شاہ شمس کے عرس پر سندھ سے ہندو برادری کے افراد بھی شرکت کیا کرتے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سترویں صدی میں ملتان میں محرم کے ماتمی جلوسوں میں بالمیک (ہندو برادری) اور دیگر برادریاں بھی شریک ہوا کرتی تھیں۔
قیامِ پا کستان سے قبل پنجاب کا معاشرہ بقائے باہمی کی مثال تھا۔غیر منقسم پنجاب میں مذہبی تقسیم یوں تھی۔ 55فیصد مسلمان، 30فیصد ہندو، 14.6سکھ ،1.4فیصد مسیحی اورایک فیصد دیگر لوگ آبادتھے۔

 مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی برادریوں کے مابین سماجی میل جول،، دوستیاں بھی مثالی تھیں۔ پنجاب سے دیگر مذاہب کی برادریوں کی نقل مکانی کے باعث موجودہ پنجاب میں آبادی میں مذہبی تناسب بہت بگڑ گیا اور مسلم برادری میں برتری کے احساس کو جگہ ملی ۔ تاہم مذہبی رواداری کا عنصر بہر حال معاشرتی زندگی کا غالب عنصر رہا۔

پاکستان میں مذہبی عدم رواداری کی تاریخ
30مارچ 1953ء کو لاہور شہر پر ایک مشتعل ہجوم کے راج کو دو دن ہو چلے تھے۔ یہ ہجوم سڑکوں پر دندنا رہا تھا ، پولیس کے افراد پر پتھراؤ اور چھرے مارنے کے واقعات ، بسوں اور دیگر گاڑیوں کو نظر آتش کرنے کے واقعات ، ریل کی پٹڑیاں ا کھا ڑ دی گیءں ، ٹیلی فون کی لائنیں کاٹ دی گئیں، ٹریفک کی بتیاں توڑ دی گئیں ، جو فرد سڑک پر نظر آتا (گاڑی ، موٹر سائکل یا سائیکل سوار ) اُس کو پکڑ کر منہ کالا کر دیا جاتا ۔ تمام سرکاری اہل کار بھاگ گئے تھے۔ 300نفوس پر مبنی شہر کی پولیس کو ہجوم نے غیر مسلحہ کر کے سڑکوں سے ہٹا دیا تھا ۔ دنیا سے تمام رابطے منقطع کر دئیے گئے تھے۔
پاکستان کو قائم ہوئے تقریباًساڑھے پانچ برس ہو چکے تھے۔ مذہبی رہنماؤں کی حکومت میں بڑی طاقت تھی۔ جب حکومت نے ہسپتال ، انڈسٹری، سکول بینک وغیرہ کھولنے شروع
کئے تو مذہبی رہنماؤں نے اِس کی شدید مخالفت کی ۔ اُن کے مطابق یہ جدت طرازی اسلامی قوانین سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ انہیں سڑکوں پر پردے کے بغیر پھرتی خواتین پر بھی اعتراض تھا۔ احراری اور بنیاد پرست مذہبی رہنماؤں کا مطالبہ تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ سر محمد ظفر اﷲ خان احمدی تھے۔ احراریوں نے اُن کو بر طرف کرنے کا مطالبہ کیا جس کو حکومت نے رد کر دیا ۔ اس کے نتیجے میں لاہور ( جہاں ایک بڑی تعداد میں احمدی رہائش پذیر تھے) میں بلوے پھوٹ پڑے۔

حکومت احمدیوں کے خلاف فسادات کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی تھی۔ فتنہ دوسرے شہروں کی طرف منتقل ہو رہا تھا۔ کابینہ کی میٹنگ کی صدارت فرماتے ہوئے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین بار بار کہہ رہے تھے ’’ میں کیا کروں۔‘‘ سیکرٹری دفاع سکندر مرزا سے صحیح صورت حال دریافت کرنے کے لئے کہا گیا۔ انہوں نے لاہور میں جنرل آفیسر کمانڈنگ جنرل اعظم خان سے رابطہ کیا جنہوں نے صورت حال کی تصدیق کی۔ سکندر مرزا نے پوچھا ، ’’ صورت حال کو کنٹرول کرنے میں کتنا وقت لگے گا ؟‘‘ جواب ملا ، ’’ایک گھنٹہ‘‘۔ مرزا نے کہا ’’پھر سنبھالئے‘‘۔ مرزا نے واپس آ کر کابینہ کو مطلع کیا کہ انہوں نے مارشل لا نافذ کر دیا ہے۔ جنرل اعظم نے فوراً صور ت حال پر قابو پا کر امن و امان بحال کر دیا تھا۔ مولانا مدودی ور مولانا عبدالستار خان نیازی کو گرفتار کر کے فوجی عدالت میں اُن کے خلاف مقدمہ چلا ۔ انہیں سزائے موت سنائی گئی اور انہیں کال کوٹھڑی بھیج دیاگیا ۔ بعد ازاں سعودی بادشاہ کی فون کال پر یہ سزائے موت ملتوی کر دی گئی۔

آبادی کی نقل مکانی قیام پاکستان کے انتظام کا حصہ نہیں تھی تا ہم یہ تکلیف دہ عمل سے نو زائیدہ قوم کو گزرنا پڑا ۔اسباب سے قطع نظر قیام پاکستان کے دوران نقل مکانی نے پنجاب کی آبادی کی اجتماعی نفسیات پر نفرت، خود غرضی ، چھینا چھپٹی ، دوسروں کے مال اسباب پر قبضہ کرنے جیسے رویوں کی آبیاری کی۔ اِس دوران محبت ، بھائی چارے ، ایثار اور قربانی کی اعلیٰ مثالیں بھی کہیں کہیں دکھائی دیں۔ گویا مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت اور امتیاز کا رویہ قیام پاکستان کے بعد سے معاشرے میں موجود تھا جس کا اظہار مختلف اوقات میں ہوتا رہا تا ہم اِس کے پودے کو بڑھنے کے لئے مناسب زمین، پانی اور ہوا دستیاب نہ ہونے کے سبب سے یہ فتنہ جڑ پکڑنے میں ناکام رہا۔

                                                                                     بنیاد پرستی کی موجودہ صورت کے ڈانڈے
پاکستان میں بنیاد پرستی کی موجودہ شکل کا آغاز افغانستان میں روسی قبضہ کے فوری بعد شروع ہوا ۔ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ ایک طویل سرحد ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں سرحد کے آر پار کی پٹی میں ایک ہی کلچراور نسل کے لوگ آباد ہیں۔ اشتراکی روس کی افغانستان میں آمد کے باعث سرمایہ دار بلاک اور پاکستان کو نہایت تشویش تھی ۔چنانچہ پاکستان نے سوشلسٹ روس کے خلاف سرمایہ دار بلاک کی جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کیا۔ اِس جنگ کے اثرات عالمی سیاست پر بالعموم اور پاکستان کے سماجی و سیاسی ماحول پر بالخصوص مرتب ہوئے ۔
علاقہ میں سرمایہ دارانہ مفادات کے تحفظ اور مقاصد کے حصول کے لئے مذہب کے نام پر پاکستان کے قدامت پرست معاشرے کو فروغ دیا گیا۔اس سلسلہ میں عرب اور مغرب دونوں جانب سے امداد انڈیلی گئی۔یہ امداد مذہبی مدرسوں کے قیام کیلئے استعمال کی گئی جن کو جہاد کے لئے بھر تیوں کے لئے استعمال کیا گیا ۔ ایک دہائی میں روس کو علاقہ سے نکالنے کا حدف حاصل کر لیا گیا تا ہم اس مقصد کے لئے جو ہتھیار استعمال کیا گیا اُس کو بے مہار چھوڑ دیا گیا۔چنانچہ وہ درسگاہیں جہادیوں کی کھیپ تیار کرنے اور نئے نئے محاذ ڈھونڈنے میں مشغول ر ہے۔یہ صورت حال اُن کا نشانہ بننے والے گروہوں /افراد اور ریاست کے لئے خطرہ کی صورت اختیار کرتی چلی گئی۔

بدلتا ہوا پنجاب (پاکستان)
جنرل ضیا الحق کے دور میں سپاہ صحابہ نمودار ہوئی جس کی بنیاد 1985میں پنجاب کے شہر جھنگ میں رکھی گئی۔ تنظیم نے شعیہ مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دے کر اُن کے خلاف حملوں کا آغاز کیا (شعیہ مسلمانوں پر حملوں کے پیچھے ریاست کی رضامندی مبینہ طور پر شامل تھی۔ ریاست کا خیال تھا کہ شعیہ تنظیموں کو شعیہ ایران سے اسلحہ اور معاونت مل رہی ہے )سپاہ صحابہ نے اپنے قیام کے فوراً بعد ایک قرارداد جاری کی جس میں پاکستان کو سنی ریاست قرار دینے اور سنی نقطہ نظر کے خلاف بولنے والے شعیہ رہنماؤں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔
مذہبی عدم رواداری کی فضا کی نمو اور پرورش کے پیچھے کئی ایک عناصر کار فرما رہے ہیں۔ مثلاً ریاست کے اسلامی شناخت کے ایک مبہم تصور کو جگہ دی گئی۔ یہ شناخت فوج کے ابتدائی

بدلتا ہوا پنجاب (پاکستان)
جنرل ضیا الحق کے دور میں سپاہ صحابہ نمودار ہوئی جس کی بنیاد 1985میں پنجاب کے شہر جھنگ میں رکھی گئی۔ تنظیم نے شعیہ مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دے کر اُن کے خلاف حملوں کا آغاز کیا (شعیہ مسلمانوں پر حملوں کے پیچھے ریاست کی رضامندی مبینہ طور پر شامل تھی۔ ریاست کا خیال تھا کہ شعیہ تنظیموں کو شعیہ ایران سے اسلحہ اور معاونت مل رہی ہے )سپاہ صحابہ نے اپنے قیام کے فوراً بعد ایک قرارداد جاری کی جس میں پاکستان کو سنی ریاست قرار دینے اور سنی نقطہ نظر کے خلاف بولنے والے شعیہ رہنماؤں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔
مذہبی عدم رواداری کی فضا کی نمو اور پرورش کے پیچھے کئی ایک عناصر کار فرما رہے ہیں۔ مثلاً ریاست کے اسلامی شناخت کے ایک مبہم تصور کو جگہ دی گئی۔ یہ شناخت فوج کے ابتدائی رجحان سے ہم آہنگ نہیں تھی تا ہم بعد کی دہایؤں میں صور تحال مختلف ہو گئی۔ اسلامی ریاست کے بیانیہ کو مضبوط کرنے کے لئے مذہبی جماعتوں پر انحصار کیا گیا۔

1980کی دہائی میں یہ عمل زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے جس میں اسلامائزیشن کا پروگرام متعارف کرواتے ہوئے سنی بنیاد پرست اسلام کے خلاف بات کرنے پر سخت سزائیں تجویز کیں گئیں۔ ضیا نے ریاست کے سیاسی و سماجی اداروں میں جنونی بنیاد پرستی کو راستہ مہیا کیا جس کے باعث اقلیتی عقیدوں بشمول ہندو ، مسیحی اور سکھ کے حامل افراد کے خلاف تشدد کو فروغ ملا ۔افغانستان میں روسی فوجوں کے داخل ہونے کے بعد جنوبی ایشیا میں اسلامی عسکریت کو ہوا ملی ۔ وہ عسکری گروہ جو اس جنگ میں تیار کئے گئے تھے تا حال فعال ہیں جو مذہبی اقلیتوں کے خلاف ملک بھر میں حملے جاری کئے ہوئے ہیں۔
پنجاب میں گذشتہ تین دہایؤں میں خاموشی کے ساتھ ایک الگ شنا خت کو پروان چڑھایا گیاہے جس کا رنگ سیاسی و سماجی شعبہ حیات میں واضح نظر آنے لگا ہے۔ یہ شناخت متشدد اور انتہاپسند اور فرقہ پرست گروہوں کے مقابلے میں ریاست کا بتدریج کمزور پڑتی گرفت کا بھی اشارہ ہے۔تشویش ناک امر یہ ہے کہ اِن (متشدد، فرقہ پرست اور انتہا پسند گروہوں) کو طاقت ور حلقوں کے علاوہ عوام کی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے جس کا سبب ذرائع ابلاغ میں ان کے موجود حامی افراد کے حق میں وکالت بھی ہے۔

جاری ہے

LEAVE A REPLY