یلان زامرانی

پاک وائسز، تربت 


یہ مناظر بلوچستان کے ضلع تربت کے ایک اسپتال کے ہیں جو کہنے کو تو فنکشنل ہے لیکن اسپتال میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ 
تربت سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تحصیل بلیدہ کے دو کمروں پر مشتمل اسپتال میں صرف ایک ڈاکٹر تعینات ہے جس کے باعث مریض معمولی علاج معالجے کے لیے بھی تربت شہر یا دوسرے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

 بلیدہ سے تعلق رکھنے والے سماجی رہ نما یونس بلوچ نے پاک وائسز کو بتایا کہ “سُلُو بلیدہ میں واقع یہ اسپتال تقریبا دس ہزار آبادی کے لیے بیس سال پہلے بنایا گیا تھا۔اسپتال میں صرف ایک مرد ڈاکٹر ہے اور ایک نرسنگ اسٹاف ہے۔
اسپتال کی ابتر صورتحال کے باعث علاقے کے مریضوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے، معمولی کیسز کے لیے تربت کارخ کرتے ہیں۔
 سُلُو بلیدہ کے ایک اور رہائشی عبدالخالق بلوچ کے مطابق یہ اسپتال طویل عرصہ سے خراب حالت میں ہے لیکن کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی۔
 “مریضوں کو اسپتال میں دوائیاں ملتی ہیں اور نہ ہی علاج ومعالجہ کی کوئی بہتر سہولیات۔”
اس بارے میں جب ہم نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر سجاد بلوچ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہاکہ “ہم  محدود وسائل میں جو کر سکتے ہیں وہ کررہے ہیں۔ کوٹے کے مطابق ہر تین مہینے بعد دوائیاں دیتے ہیں  لیکن علاقہ کی آبادی میں اضافے کے باعث اور فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے سب کو ادویات کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔”
رائیٹر کے بارے میں: یلان زامرانی پاک وائسز کے ساتھ تربت سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 

LEAVE A REPLY