یلان زامرانی

رائیزنگ یوتھ بلوچستان کی جانب سے کیچ میں مکران کے آرٹسٹوں کے مابین تربت گرلز ماڈل اسکول کے سامنے آرٹ کمپٹیشن کا انعقاد کیاگیا،جہاں مکران کے دو اضلاع تربت اور گوادر کے آرٹسٹوں نے دیواروں پر فن مصوری کا شاندار مظاہرہ کیا

آرٹسٹوں نے آلودگی کے نقصانات کے حوالے سے بہترین آرٹ بناکر ناظرین کو ورطہ حیرت میں مبتلاء کردیا کیچ کے تحصیل بلیدہ سے تعلق رکھنے والے معروف بلوچ آرٹسٹ شریف قاضی نے کہاکہ آج ہم نے رائیزنگ یوتھ کیجانب سے منعقدہ کیچ میں اس آرٹ کمپٹیشن میں حصہ لیا ایک جانب ہمیں اپنے فن مصوری کے رنگ بکھیرنے کا موقع ملاہے تو دوسری جانب ہم اس فن کے زریعے اپنے معاشرے کو ایک مثبت پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ماحول اور ملک کو کس طرح سے آلودگی سے بچاسکتےہیں.

اس وقت آلودگی نے ہمارے اردگرد سر اٹھالیاہے اگر ہم نے ابھی سے عوام کو اس حوالے سے آگہی نہیں دی اور اپنی زمہ داری کو نہیں نبھایا تو مستقبل قریب میں نقصانات ہمیں اٹھانے ہی پڑیں گے. انہوں نے مزید کہاکہ فن مصوری ادب کا حصہ ہے اور ہم اسی سے معاشرے کی مثبت اور منفی رویوں کی نشاندہی کیساتھ اپنے کلچر اور معاشرے کا بہترین پہلو اجاگر کرسکتے ہیں.

اس پروگرام کے انتظام کرنے والے رائیزنگ یوتھ کیچ کے رہنماء شے جان محمد بلوچ کے مطابق اس آرٹ مقابلے میں گوادر اور تربت کے آرٹسٹ شریک ہیں اس مقابلے کے انعقاد کامقصد یہ ہےکہ ٹیلینٹڈ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور آرٹ کلچر کے زریعے معاشرے کو اسکی ماحول دوستی کیجانب توجہ مبذول کراناہے.

مقابلے میں حصہ لینے والے گوادر سے تعلق رکھنے والے نونہال آرٹسٹ عاصم بلوچ کےمطابق وہ گوادر کے آرمی پبلک اسکول میں چھٹی جماعت کے طالبعلم ہیں اور آج اسے خوشی ہورہاہے کہ وہ مکران کے بڑے بڑے آرٹسٹوں کے اس مقابلے میں شریک ہے اور فن مصوری کامظاہرہ کررہاہے. مقابلے میں شامل آرٹسٹوں میں سے ایک کثیر تعداد فیمیل آرٹسٹوں کی تھی جو اس فن میں اپنے صلاحیتیوں کا اظہار بہتر طریقے سے کررہی تھیں. مقابلے میں حصہ لینے والے آرٹسٹوں کیلئے انعامات کابھی بندوبست کیاگیاتھا.
اس کمپٹیشن کا آغاز صبح آٹھ بجے شروع ہوا جو شام چھ بجے تک جاری رہا اس موقع پر کیچ کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے سماجی وسیاسی اور ادب سے وابستہ افراد نے فن پاروں کے اس مقابلے کادورہ کرکے آرٹسٹوں کی حوصلہ افزائی کی

LEAVE A REPLY