اکبر فقیر

پاک وائسز، پسنی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر کی ساحلی تحصیل پسنی  کے رہائشیوں کے لیے ریت کا ایک بڑا سرکتا ہوا ٹیلا بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

سرکتی ریت کا ٹیلا مستانی ریک کے نام سے مشہور ہے۔ فوٹو۔اکبر فقیر

بحرہ عرب کے کنارے واقع پسنی شہر کے اطراف میں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے موجود ہیں اور ان میں سب سے بڑا ٹیلا جو مقامی   آبادی میں مستانی ریک کے نام سے مشہور ہے، اب اس نے مقامی آبادی کی جانب آہستہ آہستہ پیش قدمی شروع کر رکھی ہے بلکہ یہ شہر میں داخل ہو چکی ہے۔ اسے شہر کی  جانب بڑھتا ریت کا سونامی بھی کہا جا سکتا ہے۔

ریت کا ٹیلا آہستہ آہستہ گھروں کی طرف پیش قدمی کررہا ہے۔فوٹو: اکبر فقیر

مستانی ریک نامی ٹیلا اب تک متعدد مکانات اور کچھ کو جزوی طور پر نگل چکا ہے۔

یہ قدرتی آفت اگر اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو شہریوں کو خوف ہے کہ جلد ہی ان کے مکانات اس کے نیچے دفن ہو چکے ہوں گے اور انھیں بے گھر ہونا پڑے گا۔

ریت پسنی شہر کی طرف رخ کرتی جا رہی ہے ۔فوٹو فقیر اکبر

شہری اپنی املاک کے ٹیلے میں غرق ہونے کے خدشے پر خوف کی کیفیت میں مبتلا ہیں تاہم حکام کی جانب سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لینے پر بے چارگی اور مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 پسنی کے شہریوں کے مطابق اگر ابھی آفت کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے تو وہ وقت دور نہیں جب پورا کا پورا شہر ریت کے نیچے دب کر تاریخ بن کر رہ جائے گا۔

دوسری جانب گوادر کی طرح پسنی کے شہریوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری سے جڑا ہے جس کی وجہ سے لوگ مالی طور پر اس قابل نہیں کہ متبادل جگہ حاصل کر سکے۔

ریت کا یہ ٹیلا سرکتا سرکتا پسنی کے ایک مکان تک پہنچ چکا ہے۔فوٹو:اکبر فقیر

پسنی کے رہائشیوں کے مطابق اگر یہ شہر رہنے کے قابل نہ رہا تو اس صورت میں قریبی متبادل جگہ گوادر شہر ہے جہاں پر اب زمین کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں اور ان کے لیے وہاں جگہ حاصل کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔

شہریوں کے مطابق ریت کے ٹیلے کی آفت کی صورت میں بڑھتی آفت سے پہلے وہ سمندر میں دوسرے علاقوں سے ان کی سمندری حدود میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے آنے والی بڑی اور جدید لانچوں، کشتیوں سے نبرآزما تھے اور اس کی وجہ سے گھر والوں کو روٹی دینا مشکل ہوتا جا رہا تھا لیکن اب لگتا ہے کہ ایک طرف ٹیلا انھیں بے گھر کر دے گا تو دوسری جانب سمندر میں بڑھتی مداخلت ان سے سمندر چھین لے گی۔

ایڈیٹنگ:محمد عظیم

LEAVE A REPLY