بادل بلوچ 
جب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کا آغاز ہوا ہے تب سے گوادر اخبارات اور نیوز چینل کی سرخیوں کی ذینت بنا ہوا ہے۔ گوادر کو دوبئی، سنگا پور اور نہ جانے کیا بنانے کے دعوؤں کے شور میں اصل مسائل کی طرف توجہ دینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ گوادر سے باہر شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ مکران سمیت گوادر کے اکثر علاقے ایسے ہیں جو آج بھی بنیادی سہولیات جیسا کہ گیس سے محروم ہیں۔
ایسے ہی پسماندہ علاقوں میں سے گوادر کی تحصیل پسنی بھی ایک ہے جہاں آج تک گیس نہیں پہنچ سکی۔ اور مقامی لوگ جنگلات کو بطور ایندھن استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
 پسنی کے کیکر کے جنگلات صرف ایندھن کے طورپر استعمال کرنے کے لیے کاٹے جارہے ہیں، جس سے شہرکی خوبصورتی ماند پڑنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافے کا خدشہ ہے.
پسنی ٹاؤن سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر کلی بازار کے علاقے سے لکڑیاں کاٹ کر شہر میں فروخت کرنے والے رستم خالد نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “لکڑی کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث پہلے کی نسبت جنگلات میں نمایاں کمی آئی ہے۔”
پہلے پسنی میں ہر گھر کے آگے کیکر کا ایک درخت ضرور ہوتا تھا مگر اب یہ درخت بے دریغ کٹائی کی نظر ہوتے جا رہے ہیں۔
جب میں نے محکمہ جنگلات کے سینئیر گیم واچر قادر بخش سے رابطہ کیا تو انہوں نے پاک وائسز کو بتایا کہ “ہم 2010 سے شجرکاری مہم چلارہے ہیں جس میں ہم نے ہزاروں کی تعداد میں نئے پودے لگائے ہیں جبکہ ان کو پانی دینے کے لیے صوبائی حکومت نے عارضی طورپر نئے لوگ بھی رکھے ہیں  جس سے جنگلات میں اضافہ ہوا ہے۔”
 درختوں کی کٹائی کے بارے انہوں نے کہا کہ  درختوں کی کٹائی پر ہمیں بہت تشویش ہے اور اس کی روک تھام کے لیے مختلف علاقوں میں لوگ بھی تعینات ہیں، مگر اس کے باوجود کٹائی جاری ہے جسکی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پسنی میں ایندھن کا واحد ذریعہ جنگل سے حاصل شدہ لکڑیاں ہیں۔”
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنگلات کے گارڈز کی موجودگی میں مقامی لوگ غیر قانونی طور پر لکڑیاں کیسے کاٹ لیتے ہیں۔
ریکپشت کے علاقے میں درخت کاٹنے میں مصروف چند خواتین نے کہا کہ “ہمیں درختوں کے دوسرے فوائد کا تو نہیں پتہ مگر اتنا جانتے ہیں کہ یہ درخت راہ گیروں کے  آرام کرنے کے لیے سایہ فراہم کرتے ہیں اور ہمارے مویشی بھی یہاں چرتے ہیں۔” جب میں نے ان سے درختوں کی کٹائی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کچھ یوں کہا: “اگر ہم درخت نہ کاٹیں تو  پھر گھر کا چولھا کیسے جلائیں گے۔”
رائیٹر کے بارے میں: بادل بلوچ پاک وائسز کے ساتھ پسنی، گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY