علی گل رند

مٹھی، تھرپارکر 

                                                                                      سنیتا پرمار پی ایس 56 سے بطور آزاد امیدوار انتخاب لڑ رہی ہیں۔

سندھ کے پسماندہ ضلع تھرپارکر میں امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد سیاسی سرگرمیاں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف، ارباب گروپ اور جی ڈی اے کے امیدوار مد مقادبل ہوں گے۔

 ضلع تھرپارکر کی قومی اسمبلی کی دو جبکہ صوبائی اسمبلی کی چار نشستیں ہیں۔ قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والوں کی تعداد 28 ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے الیکشن لڑنے والوں کی تعداد 93 ہے۔
سابق وزیر اعلی سندھ غلام ارباب رحیم اپنے پارٹی ورکرز کے ہمراہ                                                                               
این اے 221 پر پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماء شاہ محمود قریشی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء پیر نور محمد شاہ جیلانی میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت میں اختلاف پیدا ہونے کہ بعد حل نہ ہو سکے جس کے نتیجے میں پارٹی کی اعلی قیادت تاحال ٹکٹوں کی تقسیم نہیں کر سکی۔
نازیہ سہراب بطور آزاد امیدوار پی ایس 55 سے حصہ لیں رہی ہیں۔                                                                             

این اے 222 پر جی ڈی اے کہ ارباب ذکاءاللہ، رانا ہمیر سنگھ نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں جبکہ پی پی پی ارباب لطف اللہ نے اپنے بھائی امیر امان اللہ کو این اے 222 پر پی پی پی ٹکٹ دلانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

پی ایس 54 پر دوست علی راہموں، پی ایس 55 پر رئیس غنی خان کھوسو، علی اکبر راہموں، سراج سومرو، پی ایس 56 پر سنیتا پرمار کے کاغذات جمع کیے گئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے کارکن ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر نگر پارکر میں احتجاج کر رہے ہیں                                                           

دوسری جانب پی ایس 55 پر پیپلز پارٹی نے قاسم  سراج سومرو کو ٹکٹ جاری کر دیا جس پر پارٹی کے مقامی رہنماء اور بڑے سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والے رئیس غنی خان کھوسو نے اپنی پارٹی سے بغاوت کا اعلان کر دیا۔

اس سلسلے میں گذشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے اس فیصلے کے خلاف ننگرپارکر میں ایک احتجاج بھی کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پی ایس 55 ننگرپارکر پر  مقامی رہنماء کو ٹکٹ دیا جائے۔ قاسم سراج سومرو ننگرپارکر کے مقامی نہیں ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جتنے بھی غیر مقامی رکن صوبائی اسمبلی آئے انہوں نے ووٹ لینے کہ بعد واپس آکر مسائل نہیں سنے۔

رائیٹر کے بارے میں: علی گل رند پاک وائسز کے ساتھ مٹھی سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY