آکاش ہمیرانی

پاکستان کے پسماندہ علاقے تھرپارکر کے گاؤں میھاری بجیر میں اقلیت ہندو کمیونٹی کی شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے  والے چرواہے امرو مل کے  بیٹا وکرم داس کا جرمنی کی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے سلیکشن ہو گیا ہے۔۔

وکرم رواں ہفتے جرمنی کے شہر برلن روانہ ہوں گئے ہیں جہاں وہ ہمبولڈٹ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کریں گے۔

غریب گھرانے سے تعلق رکھنے  والے وکرم داس نے ساتویں جماعت  تک تعلیم اپنے آبائی گاؤں میھاری میں حاصل کی۔ اس کے بعد  انہوں نے اسلام کوٹ ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا۔  میٹرک تک وہی پڑھا   اور اس دوران    اپنی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے گھروں میں  ملازمت بھی اختیار کی۔

وکرم  نے پاک وائسز سے  بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ،  ”میں نے غربت کا     مقابلہ تعلیم سے کیا ہے اور تھر پارکر کے  قحط زدہ اور پسماندہ علاقے سے ہونے کے باوجود آج میں اس مقام پر پہنچا ہو ۔ 

انٹرمیڈیٹ ڈگری کالج مٹھی سے کی، مٹھی میں بھی اس خوددار نوجوان  نے تعلیم  کا بوجھ اپنے غریب والدین پر نہیں آنے دیا اور  اپنے بل بوتے پر انٹر کر لیا۔۔

گریجویشن سندھ یونیورسٹی سے اینتھروپالوجی  میں 2011 میں کی اور وکرم کے کچھ دوستوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل کرنے کا فیصلہ کیا تو وکرم داس کے من میں علم کی پیاس اسے اسلام آباد لے گئی اور انھوں نے اپنے دوستوں  کی کچھ مدد اور چھوٹی نوکریاں کر کے  ایم فل کیا ۔

وکرم  نے کہتے ہیں کہ ”میں تھر کے  بچوں کے لیے رول ماڈل بننا چاہتے  ہوں   اور ان کے لیے  تعلیم کے شعبے میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تا کہ انہیں وہ سب مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جن کا  مجھے  سامنا کرنا پڑا تھا۔  

ایم فل کے دوران وکرم داس پڑھائی  کے ساتھ ساتھ  اپنے گھر کا چولھا جلانے کے لئے مختلف نجی اداروں میں نوکری بھی  کی۔

وکرم داس کی کٹھن محنت  رنگ لائی  اور ان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی کی یونیورسٹی میں   سلیکشن ہو  گئی۔وکرم  ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور جرمن اکیڈمک ایکسچینج پروگرام کی مدد سے ہمبولڈٹ یونیورسٹی برلن سے جامعہ اینتھروپولاجی میں پی ایچ ڈی کریں گے۔

LEAVE A REPLY