ساجد بجیر ،

پاک وائسز، تھرپارکر

بند ہونے والے اسکولوں کے طلبا اور ان کے والدین سراپا احتجاج ہیں لیکن ابھی تک کسی نے ان کی ایک نہیں سنی۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے پسماندہ علاقے تھرپارکر میں محکمۂ تعلیم کی جانب سے بغیر کسی منصوبہ بندی کی مانٹرنگ اور بائیو میٹرک سٹسم نافذ کرنے سے درجنوں سکول بند ہو گئے ہیں جس سے سینکڑوں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے ذرائع  نے پاک وائسز کو بتایا ہے کہ تھرپارکر میں اسی سال مئی سے تعینات مانٹرنگ اسسٹنٹس اور بائیومیٹرک سسٹم کے شروع ہوتے ہی ضلع میں  672 اسکول بند ہو چکے ہیں۔
این ٹی ایس  کا امتحان پاس کرنے والے مانٹرنگ اسسٹنٹ کی تعیناتی اور  بائیو میٹرک کا نظام نافذ العمل ہوتے ہی متعدد اساتذہ کو ان کی اصل پوسٹوں پر بھیج دیا گیا ہے اور وہ تمام چلتے ہوئے اسکول بھی بند ہوگئے ہیں جہاں  کئی سو بچے زیر تعلیم تھے۔
اسکولوں کے چیک اینڈ بیلنس کے نئے نظام کے نتیجے میں بہت سے طلبا اور ان کے والدین کو عجیب و غریب صورتحال کا سامنا ہے۔
اسکول سے محروم ہونے والے بچوں اور ان کے والدین نے پاکستان کے 70 ویں یوم آزادی کے موقع پر اسی ہفتے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کے دفتر کے باہر  احتجاج کیا لیکن ان کی سننے کوئی نہیں آیا۔ والدین کا کہنا ہے کہ برائے نام ہی سہی ان کے بچے کم ازکم اسکول تو جا رہے تھے۔
والدین اپنے بچوں سمیت اسکول بند کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے۔
پاک وائسز نے احتجاج کرنے والے کچھ والدین سے بات چیت بھی کی ہے۔ ایک بچے کے والد چھنو مل نے پاک وائسز کو بتایا کہ “ہم  نے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کے دفتر کے گیٹ پر بچوں سمیت جاکر احتجاج کیا مگر وہاں بھی کوئی ذمہ دار  افسر ہمیں پوچھنے بھی نہیں آیا ۔”
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ” بچوں کو متبادل چلتے اسکولوں میں داخلہ دے کر  ہمارے بچوں کی تعلیم کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔”
اسکول بند ہونے کے بعد بچوں کا صحرائی ریت پر تعلیم حاصل کرنے کا ایک منظر
تھرپارکر میں محکمہ تعلیم نے تعلیم کے نظام میں اصلاحات  اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ اسسٹنٹ اور بائیو میٹر ک کا نظام اس سال مئی میں نافذ کیا تھا جس کے بعد ڈپوڈیشن پر تعینات اساتذہ کو واپس اپنے اداروں میں بھیج دیا گیا۔
محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا کہ تھرپار کی 64 یونین کونسلوں کے 3787سکولوں کے لیے  اس وقت 30 مانیٹرنگ اسسٹنٹ کام کر رہے ہیں ۔اتنی کم تعداد میں مانٹرنگ اسسٹنٹ مقرر کرنے سے فی کس اسسٹنٹ کو تقریبا 130اسکول وزٹ کرنے ہوں نگے جو  ممکن نہیں ہے۔
 تھر میں  اچانک اتنے سکول بند کرنے پر پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے الف اعلان کے کوآرڈینیٹر اور ماہر تعلیم   پرتاب شیوانی نے بتایا کہ محکمہ  تعلیم نے بغیر کسی منصوبہ بندی کے مانٹرنگ اسسٹنٹ تعینات کیے جس سے یہ مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔
ان بچوں نے اپنی سلیٹوں پر اسکول بند کیے جانے کے خلاف نعرے درج کر رکھے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “مناسب منصوبہ بندی اور مقامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے نہیں لیے جاتے جس کے باعث اچھے اقدامات کے نتائج بھی برے نکلتے ہیں۔”
محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق بائیو میٹرک کے بعد مٹھی سے 69 لیڈی ٹیچر کو بھی دیہی علاقوں میں مقرر کردہ اصل پوسٹوں پر بھیج دیا گیا ہے۔
اسکول بند ہونے کے بعد سے یہ بچے جھونپڑی اسکول میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔
 بچوں کے والدین میں سے ایک  نانک رام نے پاک وائسز کو بتایا کہ “ہمارے محلوں کے اسکولو ں میں برسوں سے بچے پڑھ رہے تھے  ہمیں نہیں  پتا تھا کہ ان اسکولوں میں عارضی طور پر اساتذہ مقرر ہیں جن کا اچانک تبادلہ کردیا گیا ہے اور بچے گھر بیٹھ گئے ہیں۔”
رائیٹر کے بارے میں: ساجد بجیر پاک وائسز کے ساتھ تھر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرہے ہیں۔
ایڈیٹنگ: حسن خان 

LEAVE A REPLY