ساجد بجیر 

پاک وائسز، تھرپارکر

 تھر سے نقل مکانی کر جانے والے لوگ بھی بارش کے بعد واپس اپنی زمین کا رخ کر رہے ہیں
تھر کے صحرا کے باسیوں سے زیادہ پانی کی قدر شاید ہی کسی کو ہو۔اور ہو بھی کیوں نہ جب ان کی زندگی کا دارومدار ہی بارش کے پانی پر ہو۔ برسوں بعد مون سون میں کھل کر برکھا رت برسی تو ہر طرف امید کی کرن لوٹ آئی۔ مرجھائے چہرے کھل اٹھے اور پھر سے زندگی رواں دواں ہو گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق تھرپارکر میں 5 سالوں میں پہلی بار ایسے وقت بارش ہوئی ہے جس کا  فصلوں کو فائدہ پہنچے گا۔ورنہ گزرے برسوں میں بارشیں ہوئیں بھی تو تاخیر سے جس کا الٹا نقصان ہوا۔ 25جون سے آج تک  تھر میں 664 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ بارشیں ایسے وقت ہوئیں ہیں جب تھرپارکر میں گزشتہ 5 سالوں سے قحط کے ڈیرے ہیں۔تھر کے 16 لاکھ انسانوں اور 60 لاکھ جانوروں کی زندگی کا دارومدار بھی بارش پر ہی ہے۔لیکن قحط کے وجہ سے جہاں مقامی لوگ غذائی قلت کا شکار ہوتے رہے وہاں بھوک اور پیاس سے جانور اور پرندوں پر بھی موت رقص کرتی رہی۔اس دوران محکمہ صحت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 16سو کے لگ بھگ بچے جان کی بازی ہار گئے۔
 قحط کے دوران 3 ہزار سے زائد مویشی جس میں بھیڑ بکریاں اور گائے شامل ہیں مر گئے۔تھر کا قدرتی حسن مور پرندہ بھی محفوظ نہیں رہا اور تقریبا 5 ہزار سے زائد موروں کو بھی موت نے جکڑ لیا۔اس قحط کے غذاب سے گزرنے کے  بعد بھی تھر کے باسیوں نے کبھی امید اور صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔
بارش کے بعد تھر میں نوجوانوں  کا پانی سے کھیلنے کا ایک منظر
شاید اسی صبر کا یہ ثمر ہے کہ وقفے وقفے سے بارش نے چار سوں زندگی کی رنگینی لوٹا دی ہے۔مقامی لوگوں نے برسوں سے بنجر پڑی اپنی زرعی زمینوں کو آباد کرنا شروع کردیا ہے۔ تھر کی زرعی زمینوں میں جون جولائی میں بارش پڑنے پر باجر۔گوار۔مونگ۔تل۔موٹھ۔ہندانے اور تھری گدروں کی فصل اور اناج کا بیج بویا جاتا ہے۔اگر اگست میں بارش ہوتی ہےتو پھر باجرہ نہیں اگایا جاتا، صرف گوار کی فصل اچھی ہوتی ہے۔کسان کے مطابق اس کےلئے بھی مسلسل ہر 15 دنوں بعد پچاس ملی میٹر تک بارش مطلوب ہوتی ہے۔
ایک طرف تھر میں اس طرح زرعی زمین سے ملنے والے اناج کو تھری ایک سال کےلئے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو دوسری طرف فصلوں کو فروخت کرکے اپنی دیگر ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ زرعی زمینوں سے گھاس اور فصلوں سے نکلنے والے پتے جمع کرکے رکھتے ہیں کہ اگلی بارش تک اپنے مویشیوں کی خوراک کا انتظام ہو سکے۔
تھر میں بارش کے پانی کی ایک ایک بوند کو ضائع ہونے سے بچایا جاتا ہے۔ اس طرح بارش کا پانی بھی لوگ اپنے گھروں میں زیر زمین ٹینک بنا کر جمع کرلیتے ہیں وہ پانی صرف پینے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس پانی کو بھی 2 سے 3 ماہ تک استعمال کرتے ہیں۔
بارش کے پانی سے کڑوے کنویں بھی کچھ دنوں کے لئے میٹھے ہوجاتے ہیں۔زیر زمین پانی کی سطح بھی  کچھ عرصے کےلئے بہتر ہوجاتی ہے۔ٹینکوں کے ساتھ ٹوبوں میں بھی پانی جمع کیا جاتا ہے۔ان ٹوبوں سے جانور بھی کچھ روز تک میٹھا پانی پی سکتے ہیں۔
تھر کے جو لوگ محنت مزدوری اور اپنے مویشیوں کو بیراجی علاقوں کی طرف لے گئے تھے وہ بھی اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
ماہرین موسمیات نے کہا ہے کہ اگر تھرپارکر میں اس طرح ہر 15 روز کے بعد  5سے 8 بار بارشیں چار ماہ تک ہوتی رہیں تو تھر سے قحط کے بادل ٹل جائیں گے۔
رائیٹر کے بارے میں: ساجد بجیر پاک وائسز کے لیے تھرپارکر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔ 
ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY