جی آر جنیجو، مٹھی 

تھرپارکر سے تعلق رکھنے والی پہلی ہندو خاتون سنیتا پرمار نے 2018 کے عام انتخابات میں اسلام کوٹ کی  صوبائی نشست 56 سے بطور آزاد امیدوار حصہ لینا کا اعلان کیا ہے۔

سنیتا نے 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔

سنیتا پرمار نے سیاسی جماعتوں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ “تھرپارکر کی سیاست میں عورتوں کو ان کا اصل مقام نہیں دیا جاتا اور ان کو صرف ووٹ دینے تک اہمیت دی جاتی ہے مگر خواتیں کو تھر میں جتنے مسائل ہیں وہ حل نہیں ہو سکے ہیں۔”

تقریبا 35 سالہ سنیتا پرمار کا تعلق مٹھی کے گاؤں میمن تڑ سے ہیں جہاں سے انہوں نے اپنی انتخابی مہم کا بھروپور آغاز کر دیا ہے اور وہ گھر گھر جا کر لوگوں سے ووٹ مانگ رہی ہیں۔

سنیتا تھر کے مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ گھر کا سارا کام بھی خود سنبھالنے کے علاوہ علاقے کے بچوں کو تعلیم بھی دیتی ہیں۔

سنیتا نے جس حلقے سے انتخابات لڑنے کا اعلان کیا ہے وہ حلقہ تھر کول کے علاقے میں آتا ہے اور اس حلقے میں سنیتا کی میگھواڑ کمیونٹی کا کافی ووٹ بنک ہے۔ سنیتا نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “میں کسی بھی دباؤ میں آکر اپنا فیصلہ واپس نہیں لوں گی اور ہر صورت میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑوں گی۔”

سنیتا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھہ اپنی انتخابی مہم کا آغاز بھی کر دیا ہے اور انہیں اس میں تھر کی خواتین کی بھی حمایت حاصل ہے۔

سنیتا پرمار ہمیشہ خواتین کی تعلیم اور ترقی کے لیے کوشاں رہی ہیں اسی لیے وہ علاقے کی خواتین میں کافی مقبول ہیں۔

 سنیتا اقلیت سے تعلق رکھنے والی پہلے خاتون ہیں جو جنرل الیکشن میں تھر سے حصہ لیں گی۔

 تھر میں جہاں خواتین کا گھر سے باہر نکلنا اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے اور  یہی وجہ ہے کہ ابھی تک تھر کی خواتین کئی مسائل سے دوچار ہیں۔

تھرپارکر جیسے پسماندہ علاقے میں  اس سے پہلے مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون امیدوار حاجیانی لنجی بھی قومی اسمبلی کی نشست سے  2013  کے انتخابات لڑ چکی ہیں لیکن انہیں اس میں کامیابی نہیں ملی تھی۔ جبکہ سنیتا راٹھوڑ ہندو برادری کی پہلی اور تھر کی دوسری خاتون امیدوار ہیں جو عام انتخابات میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیں گی۔

سنیتا کہتی ہیں، ” میں تھر کی عورت کی تعلیم اور اچھی صحت کا نعرہ لیکر نکلی ہوں اور الیکشن لڑوں گی۔ میں ان روایات کو ختم کرنا چاہتی ہوں جو عورت کو صرف گھر تک محدود رکھتی ہیں۔”

سنیتا کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ “ہم الیکشن جیتنے کے لیے پر عزم ہیں اور  بھرپور انتخابی مہم کے ذریعے گھر گھر جا کر اپنا پیغام پہنچائیں گے۔”

LEAVE A REPLY