جی آر جونیجو
مٹھی، تھرپارکر
 
تھرپارکر کے ریگستاںی علاقوں کے بہت سے باسی خشک سالی اور اناج کی قلت کے باعث نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔
 متاثرہ علاقوں میں ننگرپارکر،  چھاچھرو، ڈیپلو اور مٹھی شامل ہیں جہاں کے بہت سے لوگ پانی کی قلت اور مال مویشیوں کی خوراک ختم ہونے کے باعث اپنے بچوں اور مویشیوں سمیت بئراجی علاقوں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔
 تھر کے باسوں کا گزر بسر مال مویشی پر ہوتا ہے جن کے لیے چارہ برسات کے بعد  صرف چار سے پانچ ماہ تک دستیاب ہوتا ہے اور پھر لوگ بئراجی علاقوں کی طرف سفر کرتے ہیں۔
 اس سال بھی ضلع تھرپارکر میں گذشتہ بارشوں سے پیدا ہونے والا اناج اور چارہ ختم ہوگیا ہے۔ تھر میں پینے کے پانی کے ذرائع جن میں کنویں بھی شامل ہیں خشک ہونے لگے ہیں اور خوراک کے خاتمے اور قلت آب کے باعث جانور مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔
  چارے کی کمی اور پانی نہ ملنے کے باعث بعض علاقوں میں مال مویشی کے مرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  تھری باشندوں نے اپنے مویشیوں کو بچانے کے لیے بئراجی علاقوں کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔
 نقل مکانی کرنے والے قبیلوں میں اکثریت کولہی اور بھیل قبیلے کی ہے جن کا اکثر زندگی کا سفر کھیتی اور مویشی پر ھی ہے اور گرمیوں کے آتے ہی تھر میں پانی کی شدید قلت ہوگئی ہے۔
 نقل مکانی کرنے والے کیول،سوجو بائی اور پانچو مل کا کہنا ہے کہ تھر میں اب قحط کے حالات پیدا ہو رہے ہیں اور ہمارے مویشوں کے لیے گھاس اور پینے کے پانی کی شدید قلت ہو رہی ہے ۔
سوجو بائی نے کہا کہ “اب ہم بئراجی علاقوں سے بارش کے بعد ھی واپس آئیں گے کیوں کہ ھماری زندگی کا سفر ھی بارشوں پر ھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ابھی کچھ اور وقت یہیں تھر میں رھے تو مویشی مر جائیں گے جو پہلے ہی بیمار ہیں۔”
 مقامی لوگوں کے مطابق حکومت سندھ نے غربت کی لکیر سے نیچے قبیلوں کو نقل مکانی سے روکنے اور ان کو آبائی گاؤں میں روزگار مہیا کرنے کیلئے کوئی بھی اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔ حکومت سندھ کی جانب سے مفت گندم تقسیم کرنے کے اعلانات پر تاحال عمل نہیں ہو سکا ہے۔

LEAVE A REPLY