جی آر جونیجو ، نگر پارکر ،تھر

صحراء تھرپارکر کے علاقہ ننگرپارکر   میں ہر طرف آثار قدیمہ کے نشانات  آج بھی نظر آتے ہیں۔۔ ان میں سے ایک شاہکار    بوڈیسر گاؤں کی  مسجد بھی ہے جو اپنے اندر تاریخ سموئے ہوئے ہے۔۔

روایت کے مطابق بوڈیسر مسجد گجرات کے حاکم محمود شاہ بن مظفرشاہ بن غیاث الدین نے 1505عسوی  میں تعمیر کرائی تھی ۔

بوڈیسر مسجد میں سفید سنگ مرمر پر جین فن تعمیر سے دلکش و حسین نقش و نگار ہر دیکھنے والے پر اپنا سحر طاری کر دیتے ہیں ۔

کہا جاتا ھے کہ اس مسجد کی تعمیر میں اس وقت جین دھرم کی کاریگروں نے رواداری کی  مثال قائم کرتے ہوئے بھرپور حصہ لیا تھا۔

مسجد کے صحن میں ایک تاریخی قبرستان بھی موجود ہے  جس کی قبریں بھی پتھر سے تیار کی گئی ہیں۔

صحرائے تھر میں جابجا جین مذہب کے نشانات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔ تھر میں ہزاروں سال پرانے جین فن تعمیر کے نمونے بکھرے ہوئے ہیں ۔ نگرپارکر میں کاورنجھر کے طلسماتی پہاڑوں کے دامن میں واقع یہ تاریخی مسجد بھوڈیسر کے نقش و  نگار بھی جین فن تعمیر کے نادر شاہکار کی عکاسی کرتا ہے ۔

آج بھی صحرائے تھرمیں ہندو اور مسلمان نہ صرف ایک دوسرے مذہب کا دل و جان سے احترام کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی مذہبی رسومات تک میں بھی شریک ہوتے ہیں ۔

  اس مسجد کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں  یہاں کی مقامی پتھر  کا استعمال کیا گیاہے اور  مسجد کے  تین گنبذ ہیں۔۔

کئی سال گذر نے کے باوجود  یہ  قدیم مسجد اپنا وجود  ابھی تک برقرار رکھے ہوئے ہے  مگر اب حکومت کی عدم توجہی  کے باعث  تاریخی ورثہ نے اپنی پہچان کھونا شروع کر دی ہے۔ مسجد کی دیواریں آہستہ آہستہ گر رہی  ہیں ۔

بارش کی موسم میں جب سیاح ننگرپارکر آتے ہیں  تو اس قدیم مسجد کو دیکھنے کے  لیے  ضرور آتے ہیں۔۔

مقامی لوگوں  کا کہنا  ہے  کہ یہ  مسجد تھر کی قدیم تاریخی مسجد کو بچانے کے لیے  حکومت کام کرے اور یہاں پر آنے والے سیاحوں   کے لیے سہولیات کا انتظام کرے ۔

LEAVE A REPLY