ارشد وحید چودھری

:تھر کا پس منظر

تھر اور پارکر دو الگ الگ علاقے ہیں جن کو 1993 میں اکھٹا کرکے ضلع تھرپارکر کا نام دیا گیا ۔ جب بھی تھر کا نام سامنے آتا ہے تو ذہن میں بھوک،غربت ،پسماندگی،،فاقہ کشی،قحط اور موت کی تصویر ابھرنا شروع ہو جاتی ہے۔ تھرپارکر انیس ہزار چھ سو اڑتیس مربع کلومیٹر پر محیط ہے ، جس میں چھ تحصیلیں اور انسٹھ یونین کونسلیں ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تھرپارکر میں چوبیس سو گاؤں جبکہ آخری مردم شماری کے مطابق اس علاقے کی آبادی 9 لاکھ 14 ہزار 291 نفوس پر مشتمل ہے۔ جس میں 53 فیصد مرد اور 47 فیصد خواتین ہیں۔ تھر پارکر میں شرح خواندگی18 اعشاریہ بتیس فیصد ہے جس میں خواتین کی شرح خواندگی صرف 6 اعشاریہ اکیانوے فیصد ہے۔

“ہندو مسلم تہذیب:”اذان اور مندر کی گھنٹیاں تقریبا ایک ساتھ

سندھی کے علاوہ ڈھاٹکی ، تھری ،سرائیکی ، گجراتی اور پارکری زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ تھر ایک مکمل ریگستان ہے ، جہاں گرمی کی شدت ایسی کہ پرندے بھی پناہ کی تلاش میں ہلکان نظر آتے ہیں جبکہ سرد موسم میں ٹیلوں کے دامن برف کی مانند یخ بستہ ہو جاتے ہیں جبکہ پارکر مکمل طور پر پتھریلی زمین ہے۔ کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ پارکر میں ہی شامل ہے جو اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ انہی پہاڑوں کے دامن میں ایک گاؤں ’’ کاسبو ‘‘ ہے جہاں تھر کے برعکس بارہ مہینے مختلف فصلیں اگائی جاتی ہیں۔ سرسبز اور شاداب یہ گاؤں ہندو اور مسلم تہذیب کا ایک چھوٹا سا مرکز بھی ہے، شام کے سائے ڈھلنے کے ساتھ ہی اس گاؤں سے اذان اور مندر کی گھنٹیاں ایک مختصر سے وقفے کے بعد سنائی دیتی ہیں۔

:بھٹ یا ٹیلے تھر کی پہچان

تھر کی زندگی کا انحصار بارشوں پر ہے ۔اگر بارشیں اچھی ہوجائیں تو تھر کا حسن نکھر کر سامنے آ جاتا ہے اور سندھ بھر سے سیاح اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ تھر کے بلند و بالا ریت کے ٹیلے( جو مقامی زبان میں بھٹ کہلاتے ہیں ) سبز گھاس کا پیرہن اوڑھ لیتے ہیں ۔ تھر کی شاندار ثقافت کی گواھی دیتے تاریخی مقامات میں نوکوٹ کا قلعہ، گوڑی مندر، بالوہ ( جسے ماروی کا گاؤں کہا جاتا ہے، جہاں سے سندھ کے سومرا حکمران عمر سومرو نے ماروی کو اغوا کیا تھا) بوڈیسر مسجد انچلا سر اور جین دھرم شامل ہیں۔

:بارش ورنہ قحط

تھری لوگوں کے ذرائع معاش کا زیادہ انحصار زراعت اور پالتو جانوروں پر ہے،بارشوں کی صورت میں مختلف فصلیں کاشت کی جاتی ہیں اور ٹھٹھہ، بدین اور دیگر قریبی علاقوں کے چوپائے بھی بڑی تعداد میں تھر لائے جاتے ہیں جنہیں یہاں چارہ مل جاتا ہے بارشیں نہ ہوں تو یہاں کے لوگ بھی اپنے جانوروں کی زندگی بچانے کیلئے انہیں بیراجی علاقوں میں منتقل کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس علاقے میں بارشوں کی سالانہ شرح 178 ملی میٹر ہے۔ یہاں یہ روایت عام ہے کہ اگر اگست تک بارشیں نہ ہوں توعلاقے کو قحط کا سامنا ہو گا جس خوف کے باعث ستر فیصد دیہی آبادی بھی بیراجی علاقوں کی طرف عارضی ہجرت کرجاتی ہے۔

:پینے کے لیے “زہریلا” پانی

تھر میں آج بھی پینے کے پانی کی شدید قلت ہے ،گاؤں کی خواتین پانچ کلومیٹرتک دور واقع کنووں سے پیدل چل کر پانی بھر کرلاتی ہیں جس میں نمکیات بھی شامل ہوتے ہیں لیکن مجبورا زہر مار کر پینا پڑتا ہے۔ صوبائی حکومت نے پانی صاف کرنے کے پلانٹس لگائے لیکن ان کی مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث وہ بھی ناکارہ ہوچکے ہیں۔ کچھ علاقوں میں نہری پانی کی فراہمی ماہانہ بنیاد پر کی جاتی ہے جبکہ مٹھی جیسے شہر میں بھی سات روز کے بعد ایک دن میٹھا پانی واٹر سپلائی کی لائینوں کے ذریعہ آتا ہے تو مقامی لوگوں کی عید ہو جاتی ہے۔۔

تھرپاکر میں انتہائی نفیس دستکاری کی جاتی ہے ، نوے فیصد خواتین اپنے ہاتھوں سے اپنے ہنر کو کپڑے پر منتقل ضرور کرتی ہیں لیکن اس محنت کا مناسب معاوضہ انہیں نہیں مل پاتا ۔

:تھر میں موت کا کھیل

تھرپارکر قدرتی اور انسانی آفات کا تسلسل سے شکار رہا ہے کبھی قحط کے باعث موت نے رقص کیا تو کبھی زلزلے نے زندگی بھر کی جمع پونچی کو ملیا میٹ کر دیا۔ کبھی سیلاب جینے کی امنگ اور مستقبل کے سپنے بہا کر لے گیا تو کبھی ٹڈی دل کے حملے نے فاقہ کشی پہ مجبور کر دیا۔۔ اسی اور نوے کی دھائی میں قحط سے متعارف ہونےو الا علاقہ دو ہزار چودہ تک بھی بھوک کے ہاتھوں انسانی زندگیوں کے خاتمے پر بے بسی سے ماتم کرتا نظر آیا۔۔ پیاسی دھرتی کے نام سے جانی جانے والی سرزمین نے سیلاب جیسے مناظر بھی دیکھے ہیں جس میں آن کی آن میں سب کچھ ختم ہو گیا۔

پرویزمشرف دور حکومت میں تھر کے ریگستان میں پہلی بار سڑکیں تعمیر کی گئیں کیوں کہ تھر سے کوئلے کی دریافت نے علاقے میں تبدیلی کے آثار کی نوید سنادی تھی، پیپلزپارٹی کی حکومت نے اس پالیسی کو جاری رکھا جس سے عام آدمی کی مارکیٹ تک رسائی آسان ہوگئی۔

:تھر اور بچوں کی اموات

تھر میں ہر سال نوزائیدہ بچوں کی اموات دنیا کے لیےمعمول کی خبر بن چکی ہے۔ان اموات کو عموما قحط سالی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اس کے دو اسباب ہیں ۔ حکومت کی طرف سے ناگفتہ بہ صحت کی سہولیات اورکم عمری میں لڑکیوں کی شادی بنیادی وجوہات ہیں۔ آج بھی تھرپارکر میں بارہ تیرہ سال کی عمر میں بچی کی شادی کردینا کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا، کھیلنے کودنے کی عمر والی بچی شادی کے بعد اس قابل نہیں ہوتی کہ ایک صحت مند بچے کو جنم دے سکے۔

نتیجہ پیدائش کے بعد بچوں کی شرح اموات میں اضافہ نکلتا ہے۔ تھر میں خصوصا سردیوں کے موسم میں ریت کے ٹیلوں کے دامن میں درجہ حرارت بہت زیادہ نیچے جانے کی وجہ سے بھی نوزائیدہ بچے بیماری کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔میڈیا میں شور شرابے کے باعث مٹھی شہر کے سول ہسپتال میں بچوں کی نگھداشت کا ایک خصوصی وارڈ بنایا گیا ہے۔

حکومت کیا کرے؟

حکومت مقامی آبادی کو پینے کا صاف فراہم کرنے کے ہنگامی اقدامات کرے۔ علاقے میں دستکاری سے متعلق صنعت قائم کی جائے،کاشت کاری کے لیےجدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ترغیب اور سہولیات دی جائیں۔ کارونجھر کے پہاڑوں سے کاٹ کرکراچی بھیجے جانے والے گرینائیٹ پتھر کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دے کر مقامی آبادی کو روزگار فراہم کیا جائے۔

تھر کے کوئلے سے قائم کیے جانے والےپاور پلانٹس میں بھی مقامی نوجوانوں کو کھپایا جائے۔ کم عمری میں شادی کے رواج کے خلاف منظم مہم چلائی جائے۔ خواتین میں صرف سات فیصد شرح خواندگی میں اضافے کے اقدامات کئے جائیں۔ حکومت تھر کی مخلوق کو انسان کا درجہ دے گی اور ان کی بقا کے لیےاقدامات کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے گی تو ہی تھرپارکر کو غربت،بھوک اور موت کے پنچوں سے آزاد کرایا جا سکتا ہے۔

:کالم نگار کا تعارف

ارشد وحید چودھری جیونیوز کے نمائندہ خصوصی اور جنگ اخبار کے کالم نگار ہیں۔

@arshad_Geo ٹوئٹر اکاؤنٹ

 

LEAVE A REPLY