عاشق علی بجیر ،مٹھی تھرپارکر

تھرپارکر کی خواتین بھی اس مرتبہ 2018 کے انتخابی دنگل میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے پیش پیش ہیں۔ حلقہ پی ایس 56اسلامکوٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون امیدوار سنیتا پرمار نے بھی اپنا فارم نامزدگی جمع کروایا ہے۔

اس طرح سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ تھرپارکر کے آنے والے عام انتخابات اس بار نہ صرف دلچسپ ہونگے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اتنی بڑی تعداد میں یہاں کے مقامی لوگوں کے دلچسپی کے باعث روایتی جاگیرداروں ، وڈیروں اور خاندانی سیاست  خطرے میں  پڑ سکتی ہے۔

 مقامی  حلقوں کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں لوگوں کو الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی بھی مکمل آزادی نہیں تھی۔ زیادہ تر گاؤں میں وڈیروں اور ان کے خوف سے لوگ بہت کم تعداد میں وو ٹ ڈالنے جاتے تھے۔

لیکن اس مرتبہ جولائی میں ہونے والے عام انتخابات میں مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے صرف صوبائی اسیمبلی کی نشست پی ایس 56اسلامکوٹ پر 28کے قریب لوگوں نے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے فارم نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ تھرپارکر کی عوام کے لئے یہ تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔

تھرپارکرکی کل دو قومی اور چار صوبائی نشستوں پر کل 125کے قریب لوگوں نے فارم نامزدگی جمع کروائے ہیں۔

LEAVE A REPLY