ساجد بجیر
تیس منتخب خواتین کوئلے کی کانوں میں کھدائی کے بعد مٹی سے بھرے ڈمپر لے جائیں گی
تھر میں جہاں سخت جان خواتین کنووں سے پانی نکالنے، کھیتی باڑی کا کام اور نقل مکانی جیسے مسائل کا آئے روز سامنا کرتی ہیں وہی اب وہ ڈمبر ڈرائیور بھی بننے جا رہی ہیں۔
کوئلے کی کانوں میں کھدائی کے بعد مٹی سے بھرے ڈمپر چلانے کے لیے اینگرو کول مائننگ کمپنی نے 30 خواتین کا انتخاب کیا ہے۔  تھر کول کے بلاک ٹو پر اینگرو کول مائننگ کمپنی اور سندھ حکومت کے مشترکہ تعاون سے کھدائی اور پاور پلانٹ لگانے کا کام جاری ہے۔سی پیک منصوبے کے تحت تھر کول منصوبے کے پہلے مرحلے میں 330 میگاواٹ بجلی بنائی جائے گی۔
ڈمبر ڈرائیور کےلئے کامیاب امیدوار مارئی لوند نے پاک وائس کو بتایا کہ تھر کی خواتین بھی علاقے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں اور مردوں کے شانہ بشانہ چل کر اس مشن کو کامیاب بنائیں گی۔
بھاری ڈمبر ایئر کنڈیشن ہے جو کوئلے کی کھدائی سے نکلنے والی ریت کو دور جاکر پھینکنے کا کام کرتا ہے۔
تھر کی باہمت خواتین کے کام کو دیکھے جائے تو وہ مردوں سے کسی طرح کم نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ گھروں سے باہر نکلتی ہیں۔
ڈمبر ڈرائیور کی تربیت کے لیے منتخب ٹرینر سیتا کماری نے پاک وائسز کو بتایا کہ تھر کی خواتین محنت کش ہیں۔ “یہ کام تھری خواتین کےلئے بلکل ہی نیا ہے ۔ تھر کی عورت نے تو کبھی عام گاڑی بھی نہیں چلائی اور یہ تو بھاری ڈمبر ہے اور گہرے گڑھوں سے مٹی اٹھا کر ٹیلوں کی طرف پھیکنے جانا ہے۔”
“اس کام میں خطرہ تو ہے مگر موقع ملا ہے تو اب پیچھے ہم بھی نہیں رہ سکتیں۔یہ کام بھی ہم آسان بنا لیں گی۔”
منتخب خواتین کو ایک سال تک ٹرینگ دی جائے گی اور اس دوران انہیں ماہانہ وظیفہ بھی ملے گا
پروگرام کے تحت منتخب خواتین کی تربیت یکم آگست سے شروع ہوگی۔ایک سال کی تربیت کے بعد یہ خواتین زیر زمین کھدائی سے نکلنے والی ریت اٹھائیں گی۔اینگرو انتظامیہ کےمطابق ڈمپر چلانے کے لیے 70 خواتین کی درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 30 خواتین کا ٹرینگ کے لیے انتخاب کیا گیا ہے۔
سی پیک کے تحت تھر کول منصوبے میں بڑی تعداد میں چینی ماہرین کام کر رہے ہیں اورخواتین کو یہ تربیت دینے کی ذمہ داری بھی چینی ماہریں نے اٹھا لی ہے۔
تھر کول کے خواتین ڈمبر پروگرام میں تربیت لینے والی خواتین کو 15 ہزار روپے مہینہ وضیفہ دیا جائے گا۔اس کے علاوہ ان کے شوھروں کو بھی ملازمت دینے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ملک بھر میں یہ پہلہ منصوبہ ہوگا جس میں خواتین اتنی بھاری اور گہری گڑھوں سے ڈمبر چلائیں گی اور تربیت بھی خواتین ہی دیں گی۔
تھر کول بلاک ٹو کے آپریشن مینجر مرتضی رضوی نے پاک وائسز کوبتایا کہ یہ منصوبہ شروع کرتے ہی فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع مقامی لوگوں کو دیئے جائیں گے۔”پہلے ہم نے تھری نوجوانوں کو ڈمبر چلانے کی کامیابی سے تریبت دی اور وہ یہ کام کررہے ہیں۔”
“ہم نے مقامی لوگوں سے رابطہ کر کے  ان کو مطمئن کیا کہ وہ خواتین کو تربیت کےلئے آمادہ کریں۔”
کول سے بجلی بنانے کے منصوبے کا یہ پہلہ تجربہ ہے اور اس منصوبے کی کامیابی کے بعد تھر میں موجود اربوں ٹن کول کو استعمال میں لانے کےلئے مزید بلاکس پر بھی کام شروع ہوگا۔
رائیٹر کے بارے میں: ساجد بجیر پاک وائسز کے لیے تھرپارکر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔
ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY