ساجد بجیر
پاک وائسز، تھرپارکر
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد 9,187 ہو گئی ہے۔فائل فوٹو۔پاک وائسز 
صوبہ سندھ کے ضلع تھر پارکر میں غذائی قلت کے باعث مزید 6 بچے دم توڑ گئے۔ ذرائع کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے ان بچوں کی اموات گزشتہ تین دنوں کے دوران مٹھی کے سول اسپتال میں ہوئیں ہیں۔
سول اسپتال مٹھی کے ذرائع نے اسپتال میں پیر کو 2 بچوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔پیر کو ہلاک ہونے والے بچوں میں جمن داس کا تین روزہ بچہ اور امن علی کا نومولود بچہ شامل ہیں۔ اسپتال ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 3 دنوں میں اسپتال میں 6 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق تھر پار کر میں رواں سال غذائی قلت کے باعث ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 152 ہو گئی ہے۔اسی سال اپریل میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے تھر میں بچوں کی ہلاکتوں پر سوموٹو نوٹس بھی لیا تھا۔
ہلاک ہونے والے زیادہ تر بچوں کا تعلق تھر کے دیہی علاقوں سے ہے جہاں صحت مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
اپریل میں جاری ہونے والی محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال  9,187 پانچ سال سے کم عمر  بچوں کو ضلع کے مختلف 6 صحت مراکز میں داخل کیا گیا تھا جن میں سے 98 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ 145 بچوں کو حیدرآباد اور کراچی کے اسپتالوں میں ریفر کیا گیا تھا جن کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی۔
ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اخلاق احمد نے حیدر آباد اور کراچی منتقل کیے جانے والے بچوں کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے پاس
اس حوالے سے معلومات نہیں ہیں۔ ان کے بقول اس لیے یہ بتانا مشکل ہے کہ وہ زندہ بچ گئے یا پھر ہلاک ہو گئے۔
رائیٹر کے بارے میں:ساجد بجیر تھرپارکر سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔ 
ایڈیٹنگ: حسن خان
 

LEAVE A REPLY