ساجد بجیر 

پاک وائسز، تھرپارکر


تھرپارکر میں غذائی قلت اور وبائی امراض سے بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ سول اسپتال مٹھی میں مزید چار ننھے پھول مرجھا گئے ۔ہلاک بچوں میں 8 روزہ امجد علی اور تین  نومولود بچے شامل ہیں۔

سول اسپتال مٹھی کے ذرائع کے مطابق رواں ماہ ہلاک بچوں کی تعداد 32 تک جاپہنچی ہیں۔تھرپارکر میں غذائی قلت اور وبائی امراض سے بچوں کی اموات پانچ برس سے جاری ہیں۔بچوں کی اموات پر سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے سیکڑوں بار نوٹس لےکر سندھ حکومت کو تھر میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے اور خوراک کی قلت ختم کرنے سمیت پینے کے پانی کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی۔مگر طبی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے ایسے عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے کہ بچوں کی اموات کا مسئلہ مستقل طور پر حل کیا جاسکے۔
تھرپارکر میں مسلسل قحط کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے سندھ حکومت نے تھر قحط پالیسی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پالیسی اسمبلی کو منظوری کے لیے بھیجی لیکن دو سال گزر جانے کے باوجود پالیسی اسمبلی سے منظور نہیں کرائی جاسکی ہے۔
 
تھر کے سول اسپتال مٹھی میں تاحال نرسری وارڈ اور بچوں کی غذائی قلت کا وارڈ این جی اوز چلا رہی ہیں اورعملہ بھی این جی اوز کی جانب سےمقرر کیا گیا ہے۔اس معاملے پر سنجیدگی سے غور نہ کرنے کی وجہ سے تھر میں بچوں کی اموات کا سلسلہ نہیں تھم سکا۔
سول اسپتال مٹھی میں ایک ماہ سے ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔اسپتال زرائع نے پاک وائسز کو بتایا کہ ایمبولینس کے تیل کی مد میں اسپتال 36 لاکھ کا مقروض ہے۔فنڈز بھی تین ماہ سے نہیں ملے۔تھر میں بارشوں کے بعد بھی خوراک کی قلت کم نہیں ہوسکی۔اناج کی پیدواربھی کم ہی ہے اور تھرپارکر میں قحط کے اثرات برقرار ہیں ۔
اسپتال میں لیبارٹری میں ٹیسٹ بھی نہیں ہو پا رہے ہیں۔تھرپارکر میں رواں سال بارشیں تو ہوئیں مگر اناج کی پیداوار بہت کم ہوئی ہے اور لوگوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔پیپلزپارٹی ایم پی اے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے سول اسپتال مٹھی کا دورہ کیا اورسب اچھا کی رپورٹ  دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے سول اسپتال میں تمام سہولیات دی ہیں اور غذائی قلت کوکم کرنے کے لیے اربوں روپے کی گندم گیارہ بار تھر میں تقسیم کی ہے۔
بچوں کی اموات کا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تھرپارکر جمشید اعوان نے نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی وہ اسپتال کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کریں ۔ جوڈیشنل ساجد چانڈیو اور علی احمدکھوسو نے اسپتال کا دورہ کیا۔زیر علاج بچوں کے والدین سے معلومات حاصل کیں اور رپورٹ ڈسٹرکٹ سیشن جج کو پیش کردی ہے۔
رائیٹر کے بارے میں: ساجد بجیر پاک وائسز کے لیے تھرپارکر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY