مریم صدیقہ

 20 نومبر کے روز دنیا بھر میں جب بچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ،تھرپارکر میں بچے مزدوری میں لگے ہوئے ہیں اور وہ انسانی اور خصوصا اپنے (بچوں کے) بنیادی حقوق سے بھی واقف نہیں ہیں۔
سندھ کا پسماندہ ضلع تھر پارکر جو کوئلہ ،نمک ، گرینائیٹ اور چینی کے پتھر جیسے قیمتی معدنی وسائل سے مالا مال ہے وہاں بھی بچے اپنے بنیادی حقوق سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔
تھر میں بچوں کا مزدوری کرنا ایک عام رواج  بن چکا ہے۔ مزدور بچے کا مستقبل کس طرح تاریکی میں ڈوب رہا ہے۔ یہ نہ تو بچہ سمجھتا ہے نہ ہی انکے والدین اس بات کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
 تھر میں اس وقت بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی مقامی تنظیم اسپارک کے مطابق 18 ہزار کے لگ بھگ بچے مشقت کرتے ہیں اور ان کا مستقبل داو پر لگا ہوا ہے جن کی عمریں 18سال سے کم ہیں۔
یہ بچے مختلف قسم کی مزدوری کرتے نظر آتے ہیں۔ اس میں گاڑی ورکشاپ،  پھل فروٹ فروخت کرنے والے، بٹہ مزدوری، لکڑیاں جمع کر کے کھیتی باڑی بس اسٹاپ پر بوتلیں اور دیگر سامان کی فروخت اور بڑے شہروں میں جاکر بنگلوں اور فیکٹریوں میں کام کرنا شامل ہیں جہاں سے ان بچوں کو ایک اندازے کے مطابق ماہانہ صرف 3 سے4 ہزار مزدوری ملتی ہے جس سے انکے گھر کے افراد کا بہ مشکل گزارہ ہو پاتا ہے۔
اس طرح مزدوری کرنے سے نہ تو ان کے اخراجات پورےہوتے ہیں نہ ہی یہ بچے تعلیم حاصل کرپاتے ہیں۔پاک وائسز کی جانب سے رابطہ کرنے  پر  الف اعلان کے تھر میں کوآرڈینیٹر پرتاب شیوانی نے بتایا کہ “بچوں کی مزدوری کی بڑی وجہ یہ ہے  کہ تھر میں شعور کی کمی ہے اور اسی وجہ سے لوگ چائلڈ لیبر کے قانون کی اہمیت کو بھی نہیں سمجھ پاتے۔”
بچوں کی مزدوری کے حوالے سے جو قانون پاس کیے گئے ہیں ان پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں وجیلینس کمیٹی مکمل غیر فعال ہے۔
بچوں کے حقوق لیے کام کرنے والے ادارے اسپارک کے ریجنل منیجر کاشف بجیر نے پاک وائسز کو  بتایا کہ”تھر میں ہر سال قحط کے بعد  نقل مکانی ہوتی ہے  جس کے باعث بہت بڑی تعداد میں بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور وہ بالاخر مزدوری میں لگ جاتے ہیں۔”
رائیٹر کے بارے میں: مریم صدیقہ پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ تھرپارکر سے کام کرتیں ہیں۔

1 COMMENT

  1. جتنے مسائل تھرپارکر میں ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے سینکڑوں این جی او کے علاوہ حکومتی ادارئے جس غفلت کا شکار ہین اس کی مثال دنیا میں کہپیں
    اور نہیں ملتی اگر یہ ادارئے نیک نیتی سے تھر پارکر کے فنڈ یہاں پر استعمال کریں تو مسائل کب کے ختم ہو چکے ہوتے تھرپارکر سے این جی او مافیا کو ختم کر دیا جائے اور حکومتی فنڈ کا درست استعمال کیا جائے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں ورنہ مریم صدیقہ کی طرح کئی لوگوں کی کوشش راہگاں جائے گی .

LEAVE A REPLY