By Ishtiaque Ahmed

اینگرو کول مائننگ کمپنی سندھ کے صحرائی علائقے تھرپارکر میں کوئلہ سے بجلی بنانے والے تھر کول پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے ، یہ تھر کول منصوبہ 2009 میں شروع کیا گیا ہے اور بلاک 2 پر کام جاری ہے ۔

اینگرو کمپنی تھرکول پراجیکٹ میں تھر کے نوجوانوں کو انجنیئرنگ اور مئنیجمنٹ کی نوکریوں پر بھرتی کرنے کے بجاء باھر کے نوجوانوں کو بھرتی کر رھی ھے ۔

پچھلے سال اینگرو کمپنی کی طرف سے مئنیجمنٹ اور فنانس کی نوکریوں کے اشتھارات دیے گئے ، جس میں تھر کے ڈومیسائل رکھنے والے تھر کے اھل نوجوانوں سے انٹریو لینے کے بعد تھر کے کسی نوجوان کو بھرتی نہیں کیا گیا ۔

اس سے پہلے بھی اینگرو کمپنی نے ‘تھر ٹرینی انجنیئر پروگروم’ کے ایک منصوبہ کا اعلان کیا، جس میں میڈیا اور بورڈز پر بڑے بڑے اشتھارات لگائے گئے، جس میں تھر کا ڈومیسائل رکھنے والے انجنیئرز سے درخواستیں لی گئی، اور تھر کے اھل انجنیئرز کو انٹریو کے لیئے منگوایا، اور انٹریو کو پاس کرنے کے لیئے سلیکشن کا طریقہ کار سخت مشکل بنانے اور ٹیسٹ کو پاس کرنے کے لیئے 8 مراحل پر مبنی ایک طریقہ کار بنایا گیا ۔ پہلے مرحلے میں 144 انجنیئرز نے انٹریو دیے جس میں صرف 10 انجنیئرز کو پاس کیا گیا جو پہلے سے کام کر رہے تھے، جبکہ اس منصوبہ میں 300 خالی جگھیں تھیں ۔

اس منصوبے میں یہ دکھایا گیا کہ تھر کے انجنیئرز تو ٹرینی پروگرام کے لیئے بھی اھل نہیں ہیں تو ملازمت کے لیئے کیسے اھل ھو سکتے ہیں ۔

اینگرو کمپنی نے تھر کی عورتوں کو ڈمپر ڈرائیوری کی نوکریوں پر بھرتی کرنے کے اشتھارات دیے ہیں، اینگرو کمپنی تھر کے مردوں کو بھرتی کرنے کے بجائے تھر کی عورتوں کے لیئے ڈمپر ڈرائیوری کے بڑے بڑے اشتھارات لگا کر تھر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے اور کمپنی مقامی نوجوانوں کو نوکریاں دینے سے نظرانداز کر رہی ہے اور تھر کے نوجوانوں کے بجائے باھر کے لوگوں کو بھرتی کر رھی ہے .

LEAVE A REPLY