دھرمندر بالاچ،

پاک وائسز، رحیم یار خان

یہ بچہ روایتی انداز میں سنکھ بجا کر ہندو کمیونٹی کو عبادت کی دعوت دے رہا ہے۔

پاک وائسز کی رپورٹ پر نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے رحیم یار خان کے تین مندروں کو عبادت کے لیے کھول دیا ہے جو تقریبا دو سے تین سالوں سے بند پڑے تھے۔

تفصیلات کے مطابق علاقہ بستی امان گڑھ کے کبیر مندر، بستی مڈدینہ بسم اللہ پور کے ایشور بھگت مندر اور بستی پرساں کے سدارام مندر کو عبادت کے لیے کهول دیا گیا ہے۔عبادت کی اجازت ملنے کے بعد چولستان کی ہندو کمیونٹی نے پیر کے روز مندر میں عبادت کا اہتمام کیا۔

 پاک وائسز نے 13 جون کو رحیم یار خان کے مندروں پر ایک خصوصی رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ضلعی حکومت نے ہندو کمیونٹی کی جانب سے مندروں کی سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے انتظامات کو غیر تسلی بخش قرار دے کر کبیر مندر اور ایشور بھگت مندر مکمل طور پر جبکہ سدارام مندر جزوی طور پر بند کر دیا تھا۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے کبیر مندر کو 2015 جبکہ ایشور بھگت مندر کو 2014 میں بند کر دیا تھا۔

ضلعی حکومت نے پاک وائسز کے بارہا رابطہ کرنے کے باوجود مندروں کی سیکیورٹی کے ایشو پر موقف دینے سے گریز کیا تھا تاہم رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام نے نوٹس لے لیا ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے اقلیتی ہندو کمیونٹی کو اپنے مندروں کی سیکیورٹی کا انتظام خود کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

جب یہ معاملہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی او) ذیشان اضغر کے نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے فورا ایکشن لیتے ہوئے مندروں کے سیکیورٹی جائزے کے لیے ایک ٹیم تشکیل کر دی۔ پولیس اہلکاروں پر مشتمل ٹیم نے بستی امان گڑھ کے کبیر مندر کا گزشتہ ہفتے دورہ کیا اور اس حوالے سے ڈی پی او کو ایک رپورٹ پیش کر دی ہے۔

بستی کی ہندو کمیونٹی نے مندر میں آج عبادت کی اور مندر کھلنے پر شکر ادا کیا۔کبیر مندر کی عمارت بند رہنے کے باعث خستہ حالی کا شکار ہو گئی ہے۔

ڈی پی او زیشان اضغر نے مندر کے منتظم ارجن جی منگی کی قیادت میں ہندو کمیونٹی کے وفد سے گزشتہ ہفتے اپنے آفس میں ملاقات کی جس میں انہیں بند مندروں کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ ارجن منگی نے ڈی پی او کو بریف کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی انتظامات کے لیے ہندو کمیونٹی کے پاس وسائل نہ ہونے کے باعث کم از کم تین مندر گزشتہ دو سے تین سالوں سے بند پڑے ہیں۔

کبیر مندر کو دو برس پہلے سیکیورٹی کے تسلی بخش انتظامات نہ ہونے کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔ مندر کے منتظم ارجن جی منگی مندر کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر کمیونٹی کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔

 اس پر ڈی پی او نے مندر دوبارہ کھولنے اور ہندو کمیونٹی کی عبادت گاہوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ڈی پی او ذیشان اضغر نے کہا “آپ مندروں میں عبادت سمیت اپنے مذہبی تہوار آزادی اور پر امن طریقے سے منائیں ڈسٹرکٹ پولیس آپ کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔”

کبیر مندر کی عمارت بندر رہنے کے باعث خستہ حالی کا شکار ہو گئی ہے تاہم اب ہندو کمیونٹی مندر کو اس کی اصلی حالت میں بحال کرنا چاہتی ہے۔

مندر میں عبادت کی اجازت ملنے پر بستی کی ہندو کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔نوجوانوں کے رقص کا ایک منظر

پولیس کی جانب سے کلئیرنس ملنے کے بعد ایشور بھگت مندر اور سدا رام مندر کو بھی کھول دیا گیا ہے۔

مندر کے منتظم ارجن منگی نے پاک وائسز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “پاک وائسز کی رپورٹ پر نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے ہمیں آفیس بلا کر کبیر مندر میں عبادت کرنے کی مکمل اجازت دے دی ہے۔”

کبیر مندر کو کمیونٹی اسکول کی طرح استعمال کیا جاتا تھا جہاں نوجوانوں اور بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مختلف پراگراموں کا اہتمام کیا جاتا تھا۔

ہندو کمیونٹی کے وفد میں پریتم داس بالاچ، جگریپ کمار ،ریوان چند،  دیوراج منگی ، راجندر بالاچ اور اشوک کمار سولنکی شامل تھے۔

 پیر کے روز جب کبیر مندر کو عبادت کے لیے باقاعدہ طور پر کھولا گیا تو بستی کی ہندو کمیونٹی نے بھگوان کے گهر حاضر ہوکر عبادت کی اور ایک دوسرے کو گلے مل کر بدهائی دی۔

رائیٹر کے بارے میں: دھرمندر بالاچ پاک وائسز کےلیے رحیم یار خان سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

ایڈیٹنگ:حسن خان

3 COMMENTS

LEAVE A REPLY