تحریر : صہیب اقبال

برصغیر کے نامور مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز کی یاد میں مقبرہ بنایا۔ یہ محل بھارت کے شہر آگرہ میں ہے جو 1650 میں مکمل ہوا تھا اس تاج محل کو دنیا کے عجائبات میں سے ایک عجب عمارت کہا جاتا ہے ۔ ایک تاج محل تاریخی شہر ملتان کے علاقے حسن پروانہ میں بھی موجود ہے ۔

محبت کی ایک زندہ علامت تاج محل صرف آگرہ کے حصے میں ہی نہیں بلکہ ملتان کے شہری نے بھی اپنی بیگم کے عشق میں تاج محل تعمیر کروایا تھا۔

محبت وہی جو مثال بن جائے ایسی ہی مثال ملتان کے خوبصورت تاج محل کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔۔تاج محل جیسے گنبد و مینار پر سنگ مر مر کی سفید چادر تو نہیں مگر یہ دیواریں آج بھی تاجر محمد سلمان کے عشق کی کہانی بیان کرتی ہیں۔ 1955 میں تعمیر کروایا جانے والا مقبرہ جسے تاج محل کا نام دیا گیا آج بھی محبت کرنے والوں کے لئے درگاہ عقیدت ہے۔

آگرہ کے تاج محل کے نقشے پر مغلیہ طرز تعمیر ، مقبرے پر کئے جانے والے نقش و نگار اور تاریخی عمارتوں کی نمایاں پینٹنگ ملتان کے تاج محل کی خاصیت ہیں۔ شہری محمد اسماعیل نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حسن پروانہ قبرستان میں موجود یہ مقبرہ شہریوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ بیوی کے انتقال کے بعد بے پناہی محبت کرنے والے شریک حیات کی محمد سلمان کو بھی حاجن کے قریب ہی دفنا ہی دیا گیا۔ جو محبت کی بہترین مثال ہے ۔

چوہدری محمد سلمان کے رشتہ دار محمد دلشاد نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری محمد سلمان ہندوستان کے علاقے روہتک میں رہتے تھے 1947 میں جب پاکستان بنا تو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے شہر ملتان ابسے ۔ چوہدری محمد سلمان اپنی بیوی حاجن بی بی سے بہت محبت کرتے تھے ۔ بیوی کی خواہش پر چوہدری سلمان نے بیگم کو حج کروایا۔ حاجن بی بی کی خواہش تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی قبر ایسی ہوجسے لوگ دیکھنے آئیں ۔ 1950 میں جب حاجن بی بی فوت ہوئی تو چوہدری سلمان نے تاج محل سے متاثر ہوکر یہ مقبرہ تعمیر کرایا ۔ چوہدری محمد سلمان نے اس مقبرہ کی تعمیر کے لیے برصغیر کے مختلف علاقوں سے معمار لائے جن کی پانچ سال کی محنت کے بعد 1955 میں مکمل ہوا جو آج تک محبت کی مثال ہے ۔

شہری عمر خان نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقبرہ فن تعمیر کی بہترین مثال ہے اس کو دیکھنے لوگ دور دور سے آتے ہیں یہ مقبرہ چوہدری محمد سلمان اور ان کی بیگم حاجن بی بی کی محبت کی علامت ہے ۔ یہ مقبرہ ملتان کا تاج محل ہے ۔

LEAVE A REPLY