جی آر جونیجو

مٹی سے بنے برتنوں اور اشیاء کی تاریخ صدیوں پرانی  ھے،سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر کے کچھ حصوں میں آج بھی مٹی کے برتن بڑی محنت لگن اور خوبصورتی سے تیار کئے جاتے ہیں۔  بعض برتنوں پر اس قدر کام کیا جاتا ہے کہ انہیں دیکھ کر بنانے والے کے ہاتھوں رشک ہونے لگتا ہے۔کمہھار آوی پر خود کو بھی آوی بنا کر رنگ برنگے مٹی کے برتن اور خوبصورت اشیا بناتا ھے لوگ وہ برتن اور دیگر اشیا کو گھروں کی آرائش اور ان میں بنے کھانے کھانا پسند کرتے ہیں۔

مٹی کے برتنوں کی تیاری کیلئے کمہار ایک خاص قسم کی مٹی کا استعمال کرتے ہیں۔ جس مٹی سے مٹی بنتے ہیں وہ عام مٹی نہیں ہوتی۔ صرف چکنی یا سرخ مٹی سے ہی برتن تیار کئے جاتے ہیں۔ کمہاروں کا کہنا ہے کہ مٹی کا ایک برتن کے کئی مشکل مرحلوں
سے گزر کر بنتا ھے۔
مٹی کے برتن اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ مگر یے ھنر زوال پذیری کی جانب دن دھاڑے جا رھا ھے۔
مٹی کے برتن بنانے والے اب برتنوں کی کم فروخت اور قدر نہ ھونے کے باعث پریشان حال ھیں ان کا کہنا ھے کہ پلاسٹک کے اشیاء آنے کے بعد مٹی کے برتنوں کی فروخت کم ھو گئی ھے اور اب نفع بھی نہیں ھوتا ھے لحاظ ان مین بہت بڑی محنت کرنی پڑتی ھے مگر اس محنت کا پھل نہین مل رھا ھے  ان کا خدشہ ھے کہ یے ھنر رفتہ رفتہ ختم ھو جائے گا اور مٹی کے برتن نایاب ھو جائیں گے۔

LEAVE A REPLY