دھرمیندر بالاچ

صحرا چولستان کے رہنے والے باشندے روشن علی فقیر کے سالانہ میلے میں آکر اپنی مرادیں پوری کرنے کیلئے حاضری دیتےہیںاس  میلہ میں مذہبی ہم آہنگی  اور رواداری کا سبق ملتا ہے کیونکہ یہ ہندو اور مسلمان بھائیوں کے درمیان مزہب اور فرقہ واریت کی دیوار کو ختم کرکے انسانیت کا پرچار کرتا ہے.

بکهتا رام نے پاک وائسسز کو بتایا کہ ہم مسلم صوفیا کرام کے مرید ہیں.نو سالوں سے اپنے مرشد صوفی روشن علی فقیر کا میلہ پرامن طریقے سے مناتے ہیں چولستان کی دھرتی پر یہ واحد میلہ ہے جہاں ہرایک طبقے کے لوگ آتے ہیں ہندو اور مسلم بهائی آپس میں مل کر اس میلے میں شامل ہوتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں یہ میلہ امن و بهائی چارے کی ایک مثال ہے.اس میلے میں ذات پات اونچ نیچ کی کوئی تفریق نہیں کیونکہ ہم پاکستانی ایک قوم ہیں اور اس دھرتی کی شان و ترقی کے لئے مل کر اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے.

پیارا رام ،سومار رام اور بنا رام نے کہا کہ ہمارے علاقے میں آج سے 10 دس سال پہلے کوئی میلہ نہیں منایا جاتا تھا اور ہمیں اپنے مرشد کی حاضری کے لیے سکهر میلے پر جانا پڑتا تھا لیکن نو سال پہلے ہم نے کچھ رقم جمع کرکے اپنے سائیں کے نام کا( تکیہ) آستانہ بنایا اور میلہ منانا شروع کر دیا اور آج ہم کو دلی سکون ملتا ہے.

 

جب روہی چولستان کے واسی سال کے بعد اس میلے میں شامل ہوکر اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے ملتے ہیں اور بهجن اور صوفیانہ کلام سنتے ہیں اور مگن ہوکر اپنے سهبی غم اور دکھ بھول جاتے ہیں دلوں میں جمی میل اور نفرت کو صوفیانہ کلام سن کر ختم کردیتے ہیں.روہی میں بکریاں چرانے والے چرواہے کا کہنا ہے کہ ہم سارا سال روہی میں مال مویشی چراتے ہیں ہم کو اس طرح کا کوئی پرو گرام دیکهنے کو نہیں ملتا اور سال کے بعد میں اس میلہ میں آکر خوش قسمت محسوس کرتاہوں اور روہی کی سریلی آوازوں کو سننے کا موقعہ ملتا ہے

LEAVE A REPLY