ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی

شہر ِفرید مٹھن کو ٹ کے روح پر ور ماحول میں جہا ں حضرت خوا جہ غلام فرید کے عارفانہ کلام نے بالعمو م دُنیا بھر اور بالخصو ص جنو بی پنجا ب کے انسانو ں کو یکجا کر دیا ہے وہیں پا نچ دریا و ں جہلم، را وی ، چنا ب ، ستلج اور بیا س کے مسلسل سنگم کی تخلیق پنجند کے در یا ئے سندھ کے سا تھ حسین ملاپ نےبھی جغرا فیا ئی اور صو با ئی حدود پھلانگتے پا نیوں کو ایک کر دیا۔ لیکن بد قسمتی سے آج بو ند بو ند پا نی کو تر ستا جنو بی پنجا ب ایک ایسی سیا سی ،سما جی و معا شی زبو ں حالی اور ٹوٹ پھو ٹ کا شکا ر ہےجو سیلا ب یا خشک سا لی کی شکل میں یہا ں کے کسانو ں کا روزگا ر تبا ہ کر کے انھیں غربت اور غذائی قلت کے بحر بیکراں میں دھکیل رہی ہے۔
جنوبی پنجاب کی بنجر زمینیں 
تا ہم میٹھے سُرو ں اور چمکتے پانیوں کے اس خطے میں رو ز بروز بڑھتی بد امنی ،درا ڑیں ما رتی سو کھی زمینیں اور ان زمینوں پر بسنے والے انسا نوں کے خشک لبو ں نے خبردار کر دیا ہے کہ جنو بی پنجا ب پینے کے پانی کے ساتھ ساتھ زرعی پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے۔پانی کی اس قلت کا اندازہ پاکستان میں مجموعی آبی بحران سے بھی لگایا جا سکتا ہے ۔
پاکستان کو پانی کے بحران کا سامنا
پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی جو 1951 میں 5500کیوبک میٹر تھی 2020 میں 80فیصد کی انتہائی کمی کے باعث محض 700کیوبک میٹر رہ جائے گی جو پاکستان کو بیک وقت پانی کی قلت (واٹر سکارسٹی) اور پانی کے دباو(واٹر سٹریسڈ) سےدوچار ملکوں کی صف میں لا کھڑا کرئےگی ۔ کیونکہ اگر کسی ملک میں پانی کی فی کس دستیابی 1000 کیوبک میٹر سے کم ہو تو وہ پانی کی قلت اور اگر 1700کیوبک میٹر سے کم ہو تو وہ پانی کے دباو کا شکار گردانا جاتا ہے ۔
 حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچاس ملین افراد کے لئے پینے کا صاف پانی میسر نہیں جبکہ یومیہ 630بچے پانی کے سبب ہونے والی امراض سے مر رہے ہیں ۔اگرچہ پاکستان میں بنجر اور نیم بنجر زمین کو سیراب کرنےکے لئے زیر زمین پانی کے ساتھ ساتھ مون سون بارشوں اور برف سے ڈھکے گلیشیرز سے نکلتے ندی نالوں اور دریاوں کے آ بی وسائل موجود ہیں ۔
 دریائے سندھ زراعت کی لائف لائن 
خاص طور پر پاکستان کی زراعت کی لائف لائن 1800میل کی لمبائی تک پھیلا طویل ترین دریائے سندھ جنوبی پنجاب اور سندھ کی زمینوں کو سیراب کرنے کا بڑا ذریعہ ہے ۔ لیکن قومی و بین الاقوامی مسائل کے بڑھتے حجم نے آبی بحران کو پاکستان کا مشکل ترین چیلنج بنا دیا ہے ۔ پاکستان اور خصوصاً جنوبی پنجاب میں آبی بحران کی کئی جہتیں اور وجوہات ہیں جن میں گلوبل وارمنگ ، انڈسٹریلائزیشن، پانی کے عالمی تنازعات اور ماحولیاتی آلودگی جیسے بین الاقوامی مسائل سے لے کر رشوت ستانی ، ناقص انفراسٹرکچر، بین الصوبائی آبی تقسیم اور آبی وسائل کی شدید بد انتظامی جیسے قومی معمولات بھی شامل ہیں ۔
گلوبل وامنگ کے پاکستان پر اثرات 
پاکستان جرنل آف میٹرولوجی 2015 کے مطابق گلوبل وارمنگ اور موسمی تغیرات کے سبب کوہ ہندوکش ، کوہ ہمالیہ اور کوہ قراقرم کے 50 دیو ہیکل گلیشیرز 2035تک تیزی سےپگھلنے کے انتہائی خطرات موجود ہیں کیونکہ صنعتی انقلاب کی بدولت گرین ہاوس گیسوں کا بڑھتا اخراج عالمی درجہ حرارت میں اکیسویں صدی کے اختتام تک 4-1فیصد تک اضافہ کر دیگا۔ اگرچہ پاکستان گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں صرف اشاریہ 34فیصد کاانتہائی معمولی حصہ دار ہے مگر اس کے باوجود موسمی تغیرات کے شدید خطرات سے دوچار ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر آتا ہے ۔
گلیشرز کا پگھلنا صرف سوکھتے دریاوں کے وجود کے لئے ہی عذاب انسانی نہیں بلکہ دریاوں کے ساتھ بسنے والے ان لاکھوں انسانوں کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے جن کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے ۔ معاشی ، سماجی اور سیاسی زبوں حالی کا شکار یہ لوگ گلیشرز کے غیر فطری پگھلاو کے نتیجے میں ہونیوالے زمینی کٹاو اور حیاتیاتی و نباتاتی نظام میں تنوع کے خاتمے کے تھپیڑے تو سہہ ہی رہے ہیں تا ہم مسلہ محض یہیں تک محدود نہیں بلکہ ہر سال تواتر سے آنے والے سیلابوں نے بھی مُلکی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے ۔ مثال کے طور پر ان دیو ہیکل گلیشرز کے پگھلنے کے سبب 2010کے دوران آنے والے خوفناک سیلابوں سے 15بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا اور دو ہزار سے زائد انسانی جانوں کا زیاں اور 15ملین لوگ متاثر ہوئے جبکہ 2011میں مون سون کی غیر متوقع بارشوں کے سبب آنے والے سیلاب نے 5ملین سے زائد اور 2012 کے سیلاب نے8۔4 ملین لوگوں کو مثاثر کیا ہے ۔
مزید یہ کہ ایک ریسرچ کے مطابق 2010 کے سیلاب میں جنوبی پنجاب خصوصاًضلع مظفر گڑھ سب سے زیادہ مثاثر ہوا ۔ جسکے زراعت پر انحصار کرنے والے 323دیہاتوں میں لوگوں کی زمین ،فصلیں اور باغات سب کچھ تباہ ہو گیا ۔ ریسرچ نے یہ افشا بھی کیا ہے کہ غذائی قلت اور آلودگی کے ساتھ زندہ رہنے والے ان متاثر ین کی بحالی کے لئے حکومت کو مربوط پروگرام تشکیل دینا ہو نگے وگرنہ آنے والے وقتوں میں موسمی تغیرات کے سبب زیادہ بڑی تباہی کے خطرات موجود ہیں ۔
 پانی کے مسئلے پر صوبوں کے درمیان تناؤ 
دوسری طرف صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے اختلافات کے سبب خشک سالی نے بھی جنوبی پنجاب میں ڈیرے جما لئے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر 2008 میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی نے مظفر گڑھ ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کو آبپاشی اور پینے کا پانی بہم پہنچانے والی ڈی جی خان ، مظفر گڑھ اور دجال کی نہروں میں اُنکی 24000کیوسک گنجائش کے برعکس صرف 900کیوسک پانی دیا جس نے یہاں کی 4ملین کپاس کو بری طرح متاثر کیا ۔
بعد ازاں 2010میں پنجاب واٹر کونسل نے خبردار کیا کہ صوبوں کےمابین پانی کی تقسیم کے فارمولے کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا ورنہ جنوبی پنجاب کے دریائے سندھ سے پانی کے حصے کو کم کر کے صوبہ سندھ کو دینے سے سرائیکی خطے کی ملکی مجموعی پیدوار نے 50فیصد حصہ ڈالنے والے گندم کی فصل تباہ ہو جائے گی یہی وجہ ہے کہ 2015میں پنجاب اسمبلی کے صوبائی ممبران نے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر زبردست احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ تحت لاہور والےیکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے لاکھوں لوگوں کا روزگار تباہ نہیں کر سکتے
لہٰذا لازم ہے کہ جنوبی پنجاب کو خشک سالی سے بچانے کے لئے حکومت وقت مزید ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ پانی کے موجود ذخائر سے ضائع ہونے والے پانی کی روک تھام کے لئے بھی مربوط پروگرام ترتیب دے تا کہ آبی بحران کہیں سیاسی بحران کی شکل میں نہ ڈھل جائے ۔ 

LEAVE A REPLY