ولید خان 
پاک وائسز، رحیم یار خان
مقامی نوجوانوں کے مطابق اسٹیڈیم کی عمارت کی بنیادیں بھی ہل چکی ہیں اور انہوں نے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔
اگر جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں کسی نے کھنڈرات کا منظر دیکھنا ہو تو اسے کہی دور جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ لیاقت پور شہر میں قائم اسٹیڈیم کھنڈرات سے کم نہیں ہے۔ اسٹیڈیم کی چھت اور دیواریں خستہ حال ہیں جبکہ کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
اسٹیڈیم کی دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث سیڑھیاں تک ٹوٹ چکی ہیں۔
 یہ اسپورٹس اسٹیڈیم جو کبھی علاقے کے نوجوانوں کے کھیل کود کے لیے سب سے  موضوع جگہ تھی آج ویرانی کا منظر پیش کرنے لگی ہے۔ اسٹیڈیم کو   لیاقت پور میں 1998ء میں 28 لاکھ روپے کی لاگت سے چار ایکڑ رقبے پر کیا گیا ۔
 مقامی لوگوں کے مطابق 19 سال گزر جانے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کبھی اسٹیڈیم کی بحالی کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ اسٹیڈیم کی چھت اور دیواروں کی حالت ایسی ہے کہ نوجوان کھلاڑی اسٹیڈیم کا رخ بھی ڈرتے ڈرتے کرتے ہیں کہ کہی یہ منہدم ہی نہ ہو جائے۔
 اسٹیڈیم  پریکٹس کے لیے آنے والے ایک نوجوان سلیم نے بتایا کہ “شہر  کا  یہ اکلوتا اسٹیڈیم ہے جہاں  اب سکون سے کھیلنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ” اسٹیڈیم کسی بھی وقت گر سکتا ہے جس سے کسی پلئیر کو نقصان ہو سکتا ہے۔”
 اسٹیڈیم کی حالت زار پر جب پاک وائسز نے ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر  سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ  اسٹیڈیم کو اصل حالت میں بحال کرنے کے لیے  پلان تیار ہے۔ انہوں نے مزید  یہ خوشخبری سنائی کہ “سالانہ ترقیاتی اسکیم کے تحت  4کروڑ کے فنڈز  ریلیز ہو چکے ہیں اور اگست  میں اسٹیڈیم کی  تعمیر و مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گا۔
رائیٹر کے بارے میں: ولید خان پاک وائسز کے ساتھ رحیم یار خان سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔ 

LEAVE A REPLY