پنجاب کے وہ اضلاع جہاں سرائیکی بولنے والوں کی اکثریت ہے
پنجاب کے وہ اضلاع جہاں سرائیکی بولنے والوں کی اکثریت ہے

اگر درجن بھر سرائیکی قوم پرست جماعتوں ، بہاولپور صوبے کے حامیوں اور قومی جماعتوں میں شامل جنوبی پنجاب کے رہنماؤں سے آج کی تاریخ میں یہ سوال سیدھے سیدھے پوچھا جائے کہ کیا وہ مستقبلِ قریب میں جنوبی پنجاب کی کوئی خودمختار شکل دیکھتے ہیں بھلے اس کا نام سرائیکستان ، جنوبی پنجاب یا بہاول پور سمیت کچھ بھی ہو ؟ ننانوے فیصد کہیں گے ہاں ہاں کیوں نہیں ؟

پھر وہ یہ دلائیل دیں گے کہ ملک کی تقریباً سب ہی سرکردہ سیاسی جماعتیں ایک عرصے سے علیحدہ سرائیکی شناخت تسلیم کر چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی نہ صرف اس وعدے سے نظریاتی طور پر کمٹڈ ہے بلکہ اس کی سابقہ حکومت قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کی قرار داد بھی لا چکی ہے اور اس قرار داد کی وسیع تر تائید بھی پارلیمانی ریکارڈ پر موجود ہے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن پچھلے دور میں بہاول پور اور جنوبی پنجاب کے حق میں آواز بلند کرچکی ہے۔ مسلم لیگ ق بھی الگ صوبے کی پرزور حامی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم بھی اس معاملے میں جنوبی پنجاب والوں کے ساتھ ہیں۔ سابق قوم پرست اتحاد پونم میں شامل چھوٹے صوبوں کی جماعتیں بھی با آوازِ بلند اس کی حامی تھیں اور انفرادی سطح پر اب بھی ہیں۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی تحریکِ انصاف میں موجودگی کے سبب عمران خان بھی وقت آنے پر جنوبی پنجاب کی علیحدہ صوبائی شناخت کے حامی ہوں گے۔

جنوبی پنجاب سے اس وقت جتنے بھی ارکانِ پارلیمان و صوبائی اسمبلی فعال ہیں ان کی اکثریت اس صوبے کے حق میں ہے۔ اپنے دور کی سینئر سیاسی شخصیات مثلاً غلام مصطفی کھر بھی انتظامی بنیادوں پر صوبہ چاہتے ہیں۔ بیگم عابدہ حسین بھی بلاواسطہ طور پر یہ تجویز دے چکی ہیں کہ پنجاب کے ملٹری انڈسٹریل اضلاع کو زرعی اضلاع سے الگ  کردیا جائے۔ جنوبی پنجاب کے تین انتظامی ڈویژنوں ( بہاولپور ، ملتان ، ڈیرہ غازی خان ) میں آج ریفرینڈم کروا لیں تو اکثریت کو آپ ایک علیحدہ صوبائی شناخت کے حق میں پائیں گے ۔

لہذا صوبہ تو بننا ہی بننا ہے۔ اور زیادہ امکان یہی ہے کہ جب بھی بنے گا سرائیکی صوبہ ہی بنے گا کیونکہ سرائیکی اب کوئی کلچرل شناخت نہیں بلکہ ٹھوس سیاسی شناخت بن چکی ہے۔ پچھلی دو مردم شماریوں میں سرائیکی کو بطور علیحدہ  زبان تسلیم کیا گیا۔ انیس سو اٹھانوے کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی لگ بھگ اٹھارہ فیصد آبادی کی مادری زبان سرائیکی ہے ۔ پنجاب کے بائیس اور خیبر پختون خواہ کے دو اضلاع میں یہ زبان بولنے والے اچھی تعداد میں موجود ہیں اور جنوبی پنجاب کے نو اضلاع میں تو ان کی مضبوط اکثریت ہے۔

 ( مظفر گڑھ میں 96.83 فیصد ، ڈیرہ غازی خان میں 80.25 فیصد ، راجن پور میں 76.72 فیصد ، بھکر میں 73 فیصد ، لودھراں میں 69 فیصد ، بہاول پور میں 65.15 فیصد ، رحیم یارخان میں 62.62 فیصد ، لئیہ میں 62.25 فیصد اور ملتان میں 60.66 فیصد آبادی  سرائیکی  بولتی ہے )۔

صرف بہاول نگر جنوبی پنجاب کا واحد ضلع ہے جہاں 94.61 فیصد آبادی پنجابی بولتی ہے مگر ان کی بھی اکثریت علیحدہ صوبے کی حامی ہے۔

اور نیا صوبہ وفاق سمیت کسی پر بوجھ بھی نہیں ہو گا کیونکہ یہ رقبے کے لحاظ سے موجودہ  پنجاب کا لگ بھگ 49 فیصد اور آبادی کے اعتبار سے 32 فیصد ہے۔ زرعی اجناس بالخصوص نقد آور فصلوں میں خود کفیل ہے۔ ذرائع آمد و رفت کے اعتبار سے پاکستان کے تمام اہم مراکز سے جڑا ہوا ہے۔پانچوں دریا جنوبی پنجاب میں جمع ہوتے ہیں۔ بیرونِ ملک اور کراچی سے اچھا خاصا محنت کا پیسہ جنوبی پنجاب میں آتا ہے۔ انتظامی انفرا سٹرکچر بھی پرانے ادوار سے موجود ہے۔ صنعت کاری کے لئے خام مال کی بھی کمی نہیں۔ اب تو پاک چائنا اکنامک کاریڈور کا بھی آسرا ہے ۔ صوبہ بننے کے تمام اجزائے ترکیبی ہیں اس لئے صوبہ تو بنے ہی بنے۔

ان دلائیل کو رد کرنا بہت مشکل ہے۔ مگر ضروری تو نہیں کہ مضبوط دلائیل حقائق بدلنے کے لئے بھی کافی ہوں ۔ مضبوط دلائیل تو پچھلے ساٹھ برس سے دئیے جارہے ہیں ۔ ریاست بہاول پور کی بحالی کی تحریک چلانے والوں کے پاس تو اس سے بھی مضبوط دلائیل تھے۔ مگر ہوا کیا ؟ بطور رحیم یار خانی میری بھی خواہش ہے کہ جنوبی پنجاب بھلے کسی بھی نام سے سہی ایک الگ صوبہ ضرور بنے ۔ اس کا دارالحکومت ملتان ہو کہ بہاول پور میری بلا سے ۔جدید چین کے معمار دینگ ژاؤ بینگ کے بقول بلی کالی ہو کہ سفید کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ چوہے پکڑ سکتی ہے۔

تو کیا جنوبی پنجاب کی کسی بھی رنگ کی بلی مستقبلِ قریب میں وفاقی تھیلے سے برآمد ہو پائے گی ؟ مجھے خاصا شبہ ہے۔ اگلے مضمون میں یہی شبہاتی تجزیہ کرنے کی کوشش ہوگی ۔آپ اسے دلائیل سے رد کریں گے تو اور خوشی ہوگی۔ ( جاری ہے )۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY