برکت اللہ بلوچ 
پاک وائسز، گوادر
پاکستان اور چین نے اسی سال مئی میں گوادر اسمارٹ سٹی کے قیام کے لیے بیجنگ میں مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔ معائدے کی تقریب سے خطاب میں اس وقت پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پلاننگ احسن اقبال نے کہا تھا کہ گوادر شہر کو سنگا پور و ہانگ کانگ کے میعار کے مطابق تعمیر کیا جا رہا ہے اور بہت جلد یہ شہر انٹرنیشنل اسمارٹ پورٹ سٹی بن کر ابھرے گا۔

گوادر کے مقامی حکام کے مطابق گوادر اسمارٹ سٹی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت کی جانب سے گوادر ماسٹرپلان کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے حالیہ دنوں میں چینی حکومت کے ایک وفد نے گوادر کا دورہ بھی کیا ہے۔

گوادر ماسٹر پلان کی اپ گریڈیشن کا مقصد پورٹ کو وسعت دینا اور چین پاکستان اقتصادی راہ داری (سی پیک) منصوبوں کے لیے مزید اراضی کا حصول ہے۔ ملابند کا شمار گوادر کی قدیم بستیوں میں ہوتا ہے جہاں الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق 559 گھرانے آباد ہیں اور ان گھرانوں میں اکثریت ماہی گیروں کی ہے۔

ملابند کے رہائشی اور فشر مین فورم کے سربراہ جماعت جہانگیر کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ماہی گیر کئی نسلوں سے آباد ہیں جہاں آج بھی 95 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے۔”منتقلی کی صورت میں ہزاروں ماہی گیروں کو بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “ہم منتقلی کے ہرگز خلاف نہیں ہیں لیکن ایسی منتقلی کو قبول نہیں کریں گے جس میں ہمیں اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑے۔”
گوادر کے معروف سماجی کارکن اور ملا بند کے رہائشی کے بی فراق نے فشر مین فورم کے جماعت جہانگیر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان کے علاقے کے مکینوں کی منتقلی کا تجربہ اچھا نہیں رہا جنہیں ساحل سمندر سے دور جاکر بسایا گیا ہے جس کے ماہی گیری کے پیشے پر منفی اثرات پڑے۔
 “ماہی گیر کو ساحل سے دور کرنے کا مطلب مچھلی کو پانی سے نکالنے کے مترادف ہے۔”
پورٹ ایریا کو وسعت دینے کے لیے گوادر بندر گاہ سے متصل ملا بند کے علاقے کے ایک حصے کو پہلے ہی ساحل سے دور نئی جگہ منتقل کیا جا چکا ہے اور ملابند میں مزید اراضی کے حصول کے لیے پورٹ انتظامیہ نے صوبائی حکومت کو خط بھی ارسال کر دیا ہے۔
دوسری جانب گوادر پورٹ اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ملابند کے علاقے میں اراضی کی خرید و فروخت اور تعمیرات پر پابندی بھی عائد ہے۔
چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی دوستین خان جمالدینی نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ  “پورٹ ایریا کو وسعت دینے کے لیے ملابند کے علاقے میں اراضی کے حصول کے لیے صوبائی حکومت کو خط لکھا ہے اور یہ اراضی غیرآباد زمین سے لینے کی کوشش کی جائے گی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “جب بھی مقامی آبادی کو منتقل کیا جائے گا تو ان کو حکومت معاوضہ ادا کرے گی۔”
“ہماری کوشش ہے کہ فی الحال ملابند کی آبادی متاثر نہ ہو لیکن جب بھی ایسا کیا گیا تو ہم علاقے کے عوام اور ماہی گیروں کی معاش کو تحفظ فراہم کریں گے۔”
سرکاری حکام کے دعوؤں کے برعکس مقامی لوگوں کہتے ہیں کہ اولڈ سٹی کی منتقلی کے حوالے سے حکومت نے انہیں مکمل اندھرے میں رکھا ہے جس کے باعث ان میں ایک بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔

  اس بارے میں چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ “حکومت کی خواہش ہے کہ ملابند سمیت اولڈ سٹی کے تمام مکین گوادر کی حقیقی ترقی کے ثمرات سے فیض یاب ہوں۔ملا بند ہو یا اولڈ سٹی کے دیگر علاقے ان کی منتقلی کی صورت میں ان کے مفاد کو مد نظر رکھا جائے گا۔”

اولڈ سٹی کو درپیش غیر یقینی صورتحال پر سماجی کارکن کے بی فراق نے کہا کہ “ہماری اطلاع کے مطابق ملابند کے بقیہ حصے کی منتقلی کا فیصلہ حکومت کرچکی ہے لیکن اس حوالے سے نہ علاقہ مکینوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور نہ ہی واضح پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے۔”

“حکومت کی مبہم پالیسیوں کے باعث مقامی آبادی کے تحفظات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں  حکام نے ملابند کے علاقے میں تین سروے بھی کیے ہیں جس میں علاقے میں رہائش پذیر ہر ایک فرد کا بائیوڈیٹا بھی حاصل کیا گیا ہے۔”
کے بی فراق مزید کہتے ہیں کہ “وہ علاقے کی منتقلی کے حق میں نہیں ہیں تاہم اگر حکومت نے ایسا کرنا ہی ہے تو علاقہ مکینوں کا حق ملکیت برقرار رکھتے ہوئے زمینیں لیز پر لی جائیں اور روزگار سمیت منصوبے سے حاصل ہونے والے منافع میں مقامی لوگوں کو بھی شریک کیا جائے۔”
رائیٹر کے بارے میں: برکت اللہ بلوچ پاک وائسز کے لیے مکران کوسٹ سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔
ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY