تحریر : صہیب اقبال

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کی ناقص حکمت عملی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی غیر سنجیدگی کے باعث ملتان فیصل آباد موٹر وے منصوبہ تاحال مکمل نہ ہوسکا 2011 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ تین سال میں مکمل ہونا تھا لیکن سات سال بعد بھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا

ملتان فیصل آباد موٹر وے منصوبہ 241 کلومیٹر پر مشتمل ہے جس کا سنگ بنیاد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ستمبر 2011 میں رکھا پیپلز پارٹی کے دور میں شروع ہونے والے اس منصوبہ کی مدت تین سال تھی لیکن سات سال گزرنے کے باوجود بھی یہ موٹر وے مکمل نہیں ہوسکی ۔

نیشنل ہائی وے کے افسر نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے پاک وائسز کو بتایا کہ یہ موٹروے منصوبہ سات سال قبل شروع ہوا ۔ یہ 241 کلومیٹر کے ٹریک کو چار حصوں میں تقسیم جبکہ منصوبہ پر کل تخمینہ 61 ارب روپے لگایا گیا ملتان خانیوال اور گوجرہ فیصل آباد پر تو کام مکمل ہے جبکہ شورکوٹ خانیوال اور گوجرہ شورکوٹ 126 کلومیٹر کا ٹریک پر کام سست روی کا شکار ہے ۔

اس منصوبے پر ابتدائی طور پر ملتان تا خانیوال 57 کلومیٹر گوجرہ شورکوٹ 62 کلومیٹر ، فیصل آباد گوجرہ 58 کلومیٹر اور شور کوٹ خانیوال 64 کلومیٹر پر تقسیم کرکے کام شروع کرایا گیا منصوبے کی مدت تکمیل 3 سال تھی لیکن شورکوٹ خانیوال سیکشن پر ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے حکومت کا تنازع ہوگیا جس پر اس سیکشن پر کام رک گیا دراصل 2011 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور پنجاب میں ن لیگ حکومت کے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ زمین کی خریداری دونوں حکومتیں مل کر کریںگی آ غاذ پر دونوں حکومتیں فنڈز مہیا کرتی رہیں لیکن آخری دنوں میں دونوں حکومتوں میں تناؤ کی وجہ سے سے شورکوٹ خانیوال کی زمین خریداری مکمل نہ ہوسکی جس پر ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے تعمیراتی فنڈز روک دیے ۔ 2016 میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس سیکشن پر تنازع ختم کرانے ان دو سیکشنوں کو چار چھوٹے سیکشنوں میں تقسیم کر کے کام شروع کرایا جس میں گوجرہ تا ٹوبہ ٹیک سنگھ 31 کلومیٹر ، اس کی لاگت 8 ارب روپے ، ٹوبہ ٹیک سنگھ تا شورکوٹ 31 کلومیٹر پر لاگت 9 ارب روپے ، شورکوٹ تا دین پور 31 کلومیٹر پر لاگت 10 ارب روپے اور دن پور سے خانیوال 34 کلومیٹر کی لاگت رکھی گئی ۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر ظفر اقبال لک نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایم فور منصوبہ کچھ فنڈز کی کمی کے باعث سست روی کا شکار تھا آب کام تیز کردیا ہے ۔ یہ منصوبہ 2019 کے آخر میں مکمل ہوجائے گا جس کے بعد یہ ٹریک عوام کے لیے باقاعدہ کھول دیا جائے گا۔

اس منصوبے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹریک پر تین شفٹوں پر کام ہو تو یہ منصوبہ چار ماہ میں مکمل ہوسکتا ہے جس سے اربوں روپے کا یہ منصوبہ فعال ہوسکے گا۔

شہری انیس اقبال نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملتان فیصل آباد موٹر وے منصوبہ جلد سے جلد مکمل کرے تاکہ شہریوں کی سفری مشکلات کم ہوسکیں مسافت میں وقت کی کمی ممکن ہو.

LEAVE A REPLY