بالاچ قادر 

آل پارٹیز کی کال پر سیاسی کارکنوں اور شہریوں نے پانی کے بحران کے خلاف احتجاج کیا

گوادر کے شہریوں سمیت سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد نے آج پانی،بجلی و دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف پورٹ کی طرف جانے والی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دیا۔

دھرنا گوادر پورٹ کو شہر سے ملانے والے واحد راستے میرین ڈرائیو پر واقع ملا موسیٰ چوک پر دیا گیا۔گودار پورٹ کے لیے میرین ڈرائیو نہ صرف ٹرکوں اور گاڑیوں کی آمدورفت کا اہم ذریعہ ہے بلکہ یہی سے گوادر آنے والے وی آئی پیز بھی گزرتے ہیں۔ اس لیے میرین ڈرائیو کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ بارش کی کمی کے باعث گوادر شہر کو ایک بار پھر پانی کے سنگین بحران کا سامنا ہے اور شہر کو پانی فراہم کرنے کا واحد ذریعہ آنکارا کور ڈیم خشک ہو گیا ہے۔

دھرنے میں تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان،سماجی شخصیات، سول سوسائٹی، وکلا، طلباء سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

دھرنے کی کال گزشتہ روز 24مئی کو آل پارٹیز گوادر نے ایک اجلاس کے بعد گوادر پریس کلب میں نیوز کانفرنس کے دوران دی تھی۔

دھرنے کے شرکاء نے جینا ہوگا ،مرنا ہوگا،دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا کے زور دار نعرے لگائے۔

گوادر کی ضلعی انتظامیہ نے آل پارٹیز کے ساتھ مذاکرات کیے جو کہ ناکام رہے

میرین ڈرائیو جیسی مرکزی شاہراہ کو کلئیر کرانے کے لیے اے ڈی سی گوادر قربان علی مگسی کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ نے آل پارٹیز کے رہ نماؤں سے مذاکرات کیے جس میں انہوں (سیاسی جماعتوں ) نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔ چارٹر میں گوادر شہر کو روزانہ ایک ہزار ٹینکر پانی اور اضافی بجلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ضلعی حکام نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی تاہم آل پارٹیز نے اسے مسترد کر دیا۔

 مذاکرات کی ناکامی کے بعد آل پارٹیز نے اعلان کیا کہ جب تک ان کے تمام مسائل حل نہیں ہونگے تب تک وہ اپنا دھرنا جاری رکھے گے۔ آل پارٹیز نے مزید کہا کہ روزانہ صبح نو بجے سے لیکر دوپہر ایک بجے تک دھرنا دے گی۔

آل پارٹیز نے اپنے کارکنوں کو شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کل صبح نو بجے ملا فاضل چوک سے لیکر ملا موسیٰ چوک تک ریلی نکالی جائے گی اور چوک پر دھرنا دیا جائے گا۔

پاک وائسز کے نمائندے بالاچ قادر کے مطابق مظاہرین نے گوادر کی مرکزی روڈ میرین ڈرائیو کو تقریبا چار گھنٹے تک بند رکھا

اس سے قبل دھرنے میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی جوائنٹ سیکریٹری اعجاذ بلوچ نے پاک وائسس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’آج لوگ پانی اور بجلی مانگنے کے لیے سورج کی اس تپش میں سڑک پر آ گئے ہیں جبکہ پانی کے بحران کے سب سے بڑے ذمہ دار عوامی نمائندے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔‘‘

اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) کے ضلعی صدر حسین واڈیلہ نے کہا’’گوادر کو ایشیا کا گیٹ وے کہا جاتا ہے مگر یہاں اب تک پانی نہیں ہے۔”

انجمن تاجران کے رہنماؤں نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روز غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے گوادر کا کاروبار بھی تباہ ہو رہا ہے۔

آخر میں گوادر بار ایسوسی ایشن کے صدر صدیق زامرانی نے کہا کہ گوادر کے وکلاء شہریوں کے ساتھ ہیں۔

 آل پارٹیز گوادر میں بلوچستان کے قوم پرست جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل( بی این پی )،نیشنل پارٹی(این پی)،بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی (بی این پی )،پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) ،جماعت علماء اسلام (جے یو آئی)،جماعت اسلامی،پاکستان مسلم لیگ ن(پی ایم ایل این) گوادر ساحل اتحاداور انجمن تاجران گوادر شامل ہے۔

رائیٹر کے بارے میں: بالاچ قادر پاک وائسز کے ساتھ گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔

ایڈیٹنگ: حسن خان 

LEAVE A REPLY