تحریر : صہیب اقبال

جنوبی پنجاب میں صحت کا شعبہ کی زبوں حالی تاحال برقرار ہے ۔ جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے اسپتال نشتر میں سہولیات کی فراہمی کی بات کریں تو وہاں بھی سہولیات کا فقدان ہے

صوبائی حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے نشتر اسپتال کو بہتر کرنے کے وعدے کیئے گئے لیکن چار ماہ گزرنے کے باوجود اسپتال کی حالت بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہو گئے ہیں۔ نشتر اسپتال میں نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ ملک کے دیگر علاقوں خیبر پختونخواہ ، بلوچستان اور سندھ کے چند اضلاع سے بھی مریض علاج و معالجہ کے لیے آتے ہیں لیکن سہولیات نا ہونے کے باعث دور دراز کے علاقوں سے آئے مریض مناسب علاج نہ ملنے پر خوار ہونے پر مجبور ہیں ۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق اسپتال کے آوٹ ڈورز اور ایمرجنسی میں روزاںہ سات سے آٹھ ہزار مریض مختلف شہروں سے آتے ہیں لیکن اسپتال کے بیڈز کی کمی کی وجہ سے صرف چند مریضوں کو ہی اسپتال میں داخل کیا جاتا ہے۔ وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر کمال پاشا نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں بستروں کی تعداد گیارہ سو ہے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے اسپتال کو بجٹ سترہ سو بستروں کا ملتا ہے ۔ اس لیے بعض اوقات ایک بستر پر دو دو مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اس اسپتال سے بوجھ کم کرنے کے لیئے نشتر ٹو کا منصوبہ بھی زیر غور ہے ۔

صوبائی وزیر یاسمین راشد نے چند روز قبل ملتان کا دورہ کیا اس دوران پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ اسپتالوں کی حالت بہتر کریں گے جنوبی پنجاب کی صحت کے حوالے سے محرومی دور کریں گے اس حوالے سے اقدامات جاری ہیں ۔ لیکن وزیر صحت کے احکامات اور دوروں کے باجود عملی طور پر کوئی تبدیلی دکھائی نہ دی۔
اسپتال میں سنئیرز ڈاکٹرز کی بھی کمی ہے جس پر صوبائی وزیر صحت داکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ جلد سنئیرز ڈاکٹرز کو نشتر اسپتال میں تعینات کر دیا جائے گا تاکہ مریضوں کے مسائل کو حل کیا جا سکے ۔

ضلع کشمور سے آئے اکرام علی نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی ماہ سے گردوں کے عارضے میں مبتلا ہے اتنا سفر طے کرکے نشتر اسپتال آیا ہوں لیکن آگے ڈاکٹر بات سننے کو تیار نہیں اور نہ ہی اسپتال کی ڈائلسز مشینیں ٹھیک ہیں نشتر میں کل سترہ ڈائلسز مشینیں ہیں جس میں سے دس مشینیں کافی عرصے سے خراب ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔

ضلع لودھراں سے آئے مریض رحیم بخش نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں اس کا بازو ٹوٹ گیا تو علاج کے لیے نشتر اسپتال آیا ہوں لیکن یہاں کوئی سہولت نہیں ہے یہاں مفت ادویات نایاب ہیں وہ بازار سے مہنگے داموں ادویات لانے پر مجبور ہے تبدیلی حکومت کے آتے ہی ہم مفت ادویات سے محروم ہو گئے ہیں۔

نشتر اسپتال اور میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر کمال پاشا نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اسپتال میں فنڈز نہیں ہیں ۔ جس کی وجہ سے خراب مشینری اور مفت ادویات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب نے نشتر اسپتال کے فنڈز بڑھانے کی بجائے کم کر دیئے ہیں ، اسپتال انتظامیہ نے ادویات ، سرجیکل سامان اور دیگر سامان کے لیئے حکومت پنجاب سے 6 ارب 60 کروڑ روپے کے فنڈز مانگے تھے لیکن محکمہ صحت پنجاب نے صرف 4 ارب 98 کروڑ روپے کے فنڈز منظور کیئے ہیں جبکہ ایک ارب 62 کروڑ کے فنڈز کی کمی کر دی ہے ۔

نشتر اسپتال کی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے دل کے اسپتال کارڈیالوجی کا توسیعی منصوبہ بھی فنڈز نا ملنے کے باعث گزشتہ تین ماہ سے رکا ہوا ہے ۔ حکومت کی جانب سے نئے منصوبے شروع کرنے کے دعوے کیئے گئے تھے لیکن اس کے برعکس پچھلی حکومت کے شروع کیئے گئے منصوبوں پر ہی کام ٹھپ ہے جس پر شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرے اور اسپتالوں کا نظام بہتر بناتے ہوئے مریضوں اور ان کے لواحقین کے مسائل حل کرے۔

LEAVE A REPLY