نذر عباس اور ولید خان 

پاک وائسز ۔رحیم یار خان

گورنمنٹ بوائز سکینڈری اسکول کو مسمار کرنے کیا جارہا ہے۔فوٹو:ولید خان 

رحیم یار خان کے علاقے رکن پور کا  گورنمنٹ بوائر سکینڈری سکول سی پیک منصوبے کی نذر ہو گیا۔اسکول کی بلڈنگ گرادی گئی جبکہ متبادل انتظامات نہ ہونے سے طلبا کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اسکول کا فرنیچر بھی کھلے آسمان تلے پڑا پڑا خراب ہونے لگا ہے۔

اسکول کے طلبا متبادل جگہ نہ ملنے پر احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنا تعلیمی سال ضائع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اسکول کب قائم ہوا؟

رحیم یارخان کے علاقہ رکن پور میں 1954 میں 54 کنال  پر گورنمنٹ بوائز ایلمنٹری سکول قائم کیا گیا جس میں 25 مواضعات کے ایک ہزار طلبہ زیر تعلیم  اور 20اساتذہ تعینات ہیں۔

اسکول اور سی پیک روٹ

سکول کی 44 کنال اراضی سی پیک رکن پور سے گزرنےو الے روٹ میں آ گئی جس پر حکومت کی جانب سے سکول کو متبادل جگہ فراہم کئے بغیر  محکمہ ہائی وے کی جانب سے سکول کی عمارت گرا دی گئی ۔

اسکول کی جدید آئی ٹی لیب بھی مسمار

اسکول کو مسمار کرنے کا ایک منظر۔فوٹو: ولید خان 

اسکو ل میں قائم جدید آئی ٹی لیبارٹی سمیت دس کمروں کو گرا دیا گیا جس کی وجہ سے طلبا کو تدریسی عمل جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ طلبہ کھلے اسمان تلے تعلیم حاصل کر ہے ہیں اور سکول کا قیمتی فرنیچر  کھلے آسمان تلے پڑا پڑا خراب ہو رہا ہے۔

علاقے کا واحد اسکول

رکن پور کے رہائشی رفیق احمد نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: “یہ ایک بچے کا مسلہ نہیں ہزار بچوں کے مستقبل کا سوال ہے علاقہ میں متبادل جگہ موجود ہے لیکن ضلعی انتظامیہ نے اس طرف توجہ نہ دی”۔

انہوں نے مزید کہا:”سی پیک منصوبے کے خلاف نہیں بچوں کے مستقبل کا مسلہ ہے رکن پور کا یہ واحد سکول تھا۔نزدیک ترین اور کوئی سکول نہیں ہے متبادل انتظام نہ کیا گیا تو بچے تعلیم چھوڑنے پرمجبور ہو جائیں گے۔

 علاقہ مکین خدا بخش نے بتایا: “بچے کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ 5 ایکڑ زمین سی پیک منصوبے کی نذرہوگئی

اسکول کے بچے کھلے آسمان تلے پڑھائی کرتے ہوئے۔فوٹو: ولید خان 

 فرنیچر کھلے اسمان تلے پڑا خراب ہو رہا ہے۔

“انہوں نے کہا کہ “حکومت  چاہیے تو علاقے میں متبادل جگہ موجود ہے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل ہے اس طرف توجہ دیں ۔

محکمہ تعلیم کی بے بسی 

ادھر محکمہ تعلیم کے چیف ایجوکیشن آفیسر مختار احمد نے پاک وائسز سے کو بتایا: “حکومت کو لکھ کر بھیجا  ہے کیونکہ ہمارے پاس فنڈ نہیں ہے، فنڈ ملے گا پھر متبادل جگہ کا بندوبست ہو گا”۔

مصنف کا تعارف: نذر عباس اور ولید خان پاک وائسز کے لیے بطور سٹزن جرنلسٹ کام کر رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY