صہیب اقبال
جنوبی پنجاب کا خطہ بنیادی حقوق سے کافی حد تک محروم ہے دورہ جدید میں بھی شہری تعلیم جیسی نعمت سے محروم ہیں ۔ متعدد سکول ایسے ہیں جہاں اساتذہ تعینات نہیں تو کہیں اساتذہ گھر بیٹھ کر تنخواہیں لے رہے ہیں جبکہ سہولیات کا بھی شدید فقدان ہے۔ تحصیل کوہ سلیمان کی یونین کونسل مبارک بستی زہر آف ڈب کے گورنمنٹ پرائمری سکول ڈوکوہ میں اساتذہ پڑھانے ہی نہیں آتے اور گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے میں مصروف ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا تعلق بھی جنوبی پنجاب کے علاقے تونسہ سے ہے یہ سکول انہی کے علاقے کا ہے۔
شہری عبد العزیز خان نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ غازی خان ٹرائیبل ایریا تحصیل کوہ سلیمان یونین کونسل مبارکی میں اساتذہ کی سکول حاضر نہ  ہونے اور گھر بیٹھے تنخواہ لینے کی شکایت کی جس پر   پر سرپرست سکول اور اسکے بھائیوں نے شکایت کرنے والے والدین کے بچوں کو سکول سے نکال دیا جو کہ افسوسناک صورتحال ہے ۔
شہری رشید نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  گورنمنٹ پرائمری سکول ڈوکوہ کے مسلسل غیرحاضراساتذہ کی گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے جس کی وجہ سے بچے تعلیم سے محروم ہیں اگر سکول کے حوالے سے شکایات کریں تو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کئی بار ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ پرائمری سکول میں کل چار استاد ہیں  جو کبھی سکول حاضر نہیں ہوتے ۔
طالب علم اشتیاق کے والد نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکول سرپرست نےدس ہزار روپے فی استاد وصول کرکے انہیں مکمل چھوٹ دے رکھی ہے۔اور ایک پرائیویٹ ٹیچر بچوں کو پڑھانے کے لیے مقرر رکھاہے۔اساتزہ کی مسلسل غیرحاضری سے تنگ آکر والدین نے ڈی سی او ڈی جی خان کو اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کی درخواست دی ۔
پاک وائسز نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی سے رابطہ کیا اسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر ہیڈکوارٹر ڈیرہ غازی خان محمد رمضان لغاری   کا کہنا تھا کہ سکول کے حوالے سے تحقیقات کررہے ہیں اگر اساتذہ کی جانب سے گھر بیٹھ کر تنخواہیں کی جارہی ہیں تو ان کیخلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی.

LEAVE A REPLY