بادل بلوچ 
پسنی، گوادر
 سروز بلوچی موسیقی کے قدیم ترین آلات میں سے ایک ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جدید الیکٹرونک آلات موسیقی نے سروز کی مدھم سی آواز کو مزید مدھم کردیا ہے۔
پہلے پہل سروز کا فن صرف بلوچوں کے لڈی قبلے تک محدود تھا جسے صرف اسی قبلے کے لوگ اپنے بڑوں بزرگوں سے سکیھتے تھے۔اس دور میں سروز کو موروثی پیشہ سمجھا جاتا تھا۔
لیکن آج  چھوٹی بڑی ذات کے سب بلوچ سروز بجانا پسند کرتے ہیں اور یہ بلوچ ثقافت کی پہچان بن چکا ہے۔ اس کے باوجود اس پیشے سے وابستہ فنکاروں کی کوئی قدر نہیں کی جاتی۔
پسنی سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک بزرگ فنکار کریم بخش ہیں جو سروز کے فن سے گزشتہ 60 سالوں سے وابستہ ہیں۔ چھیاسی سالہ سروزی پہلے شادی بیاہ میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے گزر بسر کر لیتے تھے لیکن اب اس عمر میں ان کے لیے کمرشل کام ممکن نہیں رہا۔

 انہوں نے بتایا کہ وہ کئی سالوں پہلے اسلام آباد ,مری, لاہور اور ملتان میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔حکومت کی جانب سے بلوچستان کا مشہور فن سروز کو فروغ دینے کے لیے خاص سرپرستی نہیں کی گئی۔
اس کے باوجود کریم سروز کے مستقبل کے بارے میں کافی پر امید دکھائی دیتے ہیں۔ “سروز کی ترقی کا انحصار نوجوانوں پر ہے اگر وہ اسی طرح سروز کو پسند کریں تو یہ موسیقی آلہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔”
 سروز کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “سروز کے اٹھارہ تار جبکہ بارہ راگ ہوتے ہیں، اسکے ڈھانچے میں ہرن کی چمڑی ہوتی ہے۔”
بلوچی زبان کے معروف شاعر اکرم خان کا کہنا ہے کہ “بلوچی موسیقی میں سروز کا ہمیشہ سے ہی نہایت اہم کردار رہا ہے اور بلوچی مشاعرے  سروز کے ساز کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔”
ماڈرن موسیقی میں سروز کے استعمال نے جدت اور کلاسکی موسیقی کے امتزاج کو فروغ دیا ہے۔
رائیٹر کے بارے میں: بادل بلوچ پاک وائسز کے ساتھ پسنی سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔
ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY