نذر عباس

پاک وائسز، رحیم یار خان

گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول, امام نگر ،کی عمارت میں مال مویشی بندھے ہوتے ہیں۔فوٹو:نذر عباس

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقے  رحیم یار خان میں ایک گاؤں ایسا بھی ہے جہاں لڑکیاں گذشتہ آٹھ  برس میں سکول نہیں جا سکیں ہیں۔

اب اسکول کی عمارت میں بچیاں پڑھتی نظر نہیں آتی ہیں بلکہ یہاں مال مویشی بندھے ہوتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول، امام نگر ،کو چار کلومیٹر دور ایک دوسرے سکول میں ضم کر کے اس کو مبینہ طور پر بااثر لوگوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

گاؤں کی بچیوں نے اپنے ساتھ ہونے والی اس زیادتی پر آواز اٹھائی ہے اور مطالبہ کیا ہے  کہ سکول دوبارہ ان کے حوالے کیا جائے۔

اسکول کی ننھی بچیاں اسکول کی عمارت کے باہر احتجاج کرتے ہوئے۔تصویر: نذر عباس

ان بچیوں نے سکول کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پڑھنا ہے، ہمارا اسکول کھولا جائے۔

محکمہ تعلیم کی ایسی حکمت عملی دیکھئیے کہ سکول کی بلڈنگ کے ساتھ بوائز اسکول تو چل رہاہے مگر گرلز سکول کو بند کردیاگیا۔

مقامی شخصیات جن میں محمد صدیق رفیق اور، بیشر احمد شامل ہیں نے پاک وائسز کو بتایا کہ اسکول کی عمارت آج کل  بااثر لوگوں کے قبضے میں ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سکول کو فوری طور، پر بحال کیا جائے تاکہ ہماری بچیاں تعلیم حاصل کر سکیں۔

مقامی رہائشیوں اور بچیوں کے والدین کے مطابق اسکول کی عمارت بااثر افراد کے قبضے میں ہے۔فوٹو: نذر عباس

خیال رہے کہ جنوبی پنجاب  میں جہاں بڑی تعداد میں وہ سکول ہیں جو صرف کاغذوں تک محدود ہیں تو دوسری جانب ایسے سکولوں کی تعداد بھی کم نہیں جو اس وقت کام نہیں کر رہے ہیں اور بند ہونے کی وجہ سے مقامی افراد کے ذاتی استعمال میں ہیں۔

رائیٹر کا تعارف:نذر عباس رحیم یار خان سے پاک وائسز کے لیے بطور سیٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

ایڈیٹنگ:حسن خان 

LEAVE A REPLY