نذر عباس 

پاک وائسز، رحیم یار خان

پاکستان میں زمین پر قبضے کے قصے تو آپ نے بہت سنے ہوں گے لیکن کیا کبھی جھیل پر قبضے کے بارے میں سنا ہے؟آج ہم آپ کو رحیم یار خان کی ایک ایسی ہی جھیل کی کہانی سنانے جا رہے ہیں جس پر قبضہ زور و شور سے جاری ہے۔
یہ بات ہو رہی ہےڈھنڈ گاگڑی جھیل کی ۔۔یہ رحیم یار خان کی تحصیل خانپور سے 15کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک تاریخی قصبہ گڑھی اختیار خان میں ایک بہت بڑی جھیل واقع ہے۔
سرائیکی زبان میں ڈھنڈ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پر پانی کافی عرصہ سے جمع ہو اور یہ جھیل کیونکہ بستی گاگڑی کے ساتھ واقع ہے جہاں گاگڑی قوم آباد ہے اس لیے اس جھیل کو ڈھنڈ گاگڑی کہتے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق کچھ با اثر افراد جھیل میں مٹی ڈال کر اس پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک مقامی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “جھیل کی زمین پر گزشتہ کئی عرصہ سے علاقے کے بااثر لوگ قبضہ کرنے میں مصروف ہیں۔”
 ان کے مطابق “اگر اسی طرح جھیل میں مٹی ڈال کر اور کھدائی کر کے سائیڈ کے راستہ پانی نکالا جاتا رہا تو عنقریب جھیل کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔”
مقامی لوگوں کے مطابق ایک وقت تھا جب یہ جھیل کئی میلوں تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کی ایک اپنی اہمیت تھی کیونکہ نواب آف بہاولپور تفریحی اور شکار کے لیے اسی جھیل کے کنارے قیام کرتے تھے۔
 دوسری ریاستوں کے راجے مہاراجے بھی سیر کے لیے نواب صاحب کے ساتھ اس جھیل کا رخ کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جھیل اب سکڑ کر رہ گئی ہے۔
  آس پاس کے علاقوں سے سیاح جھیل کی سیر کو آتے ہیں۔ ایسے ہی ایک سیاح افضل خان رند کہتے ہیں کہ حکومت
اگر اس جھیل پر توجہ دے تو یہ ایک زبردست تفریحی مقام کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
رائیٹر کے بارے میں: نذر عباس جنوبی پنجاب کے علاقے رحیم یار خان سے پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 

LEAVE A REPLY