نذر عباس 

رحیم یار خان

رحیم یارخان میں محکمہ تعلیم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ضلع کے596 ہائی اسکولوں میں سے 237 سرکاری ہائی سکولوں کی حالت غیر تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔ ان میں سے  18 سکولوں کی عمارتیں  مکمل طور ناقابل استعمال ،جبکہ  60سے زائد اسکولوں کی عمارتیں خستہ  حال بتائی گئیں ہیں ،جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتیں ہیں۔

اسکولوں کی ان خستہ حال عمارتوں سے  پلستر اور بعض اوقات بچوں پر پنکھے گرنے کے واقعات  بھی آئے ہیں جن میں  متعدد بچوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ صوبائی  حکومت کی جانب  سے اسکولوں کی تعمیر و مرمت کے لئے ہر سال  ایک کثیر رقم مہیا کی جاتی رہی ہے لیکن اس کا استعمال کہی نظر نہیں آتا۔
محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق  افسران بالا نے مختلف جعلی ناموں سے   جنرل آرڈر سپلائیر فرمز رجسٹر کروا رکھی ہیں ، اور لاکھوں  روپوں کے جعلی بل  پاس کروائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے تعمیر ومرمت  کے لئے رقم سکولوں میں لگنے کی بجائے کرپشن کی نظر ہو جاتی ہے۔
رحیم یارخان میں  سکولوں کی حالت ابتر سے ابتر ہو تی جا رہی ہے۔  رابطہ کرنے پر چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن رحیم یارخان مختیار حسین نے کہا کہ سکولوں کے فنڈز کی میں خود نگرانی کر رہا ہوں  اور بلڈنگ کی مرمت کے لئے محکمہ تعلیم کے افسران کو لکھ دیا ہے ۔
دوسری جانب ایسے ہی ایک اسکول میں زیر تعلیم ایک بچے کے والد راجہ ارباب کا کہنا ہے حکومت محکمہ تعلیم کی انے والے فنڈ میں ہونے والی مبینہ کرپشن کا نوٹس لے اور جو بلڈنگ قابل استعمال نہیں ہیں ان کو گرا کر نئی بلڈنگ بنائی جائیں تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے.

رائیٹر کے بارے میں: نذر عباس پاک وائسز کے ساتھ جنوبی پنجاب سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY