دهرمیندر کمار بالاچ

رکشا بندھن کا مطلب حفاطت کا بندھن بھی ہے۔ ہرسال ساون کے آخری ہفتے پوری دنیا میں ہندو برادری بڑے جوش و خروش سے اس تہوار کو مناتی ہیں۔ اس تہوارکے موقع پر بہنیں اپنے بھائیوں کی کلائی پر ایک خاص دھاگا باندھتی ہیں اور تهالی میں دیا، سندھور، چاول اور مٹھائی رکھ کر اپنے بھائی کی آرتی اتارتی ہیں اور بھائی کی لمبی عمر اور صحت کے لیے بھگوان سے دعا کرتی ہیں.بھائی راکھی بندهوا کر بہن کےسرپر شفقت کا ہاتھ پھیرتاہے بہن کی زندگی بهر عزت و آبرو کی حفاظت کا قول قرارکرتا ہے اوراپنی حیثیت کےمطابق تحفے دیتا ہے. گزرے وقتوں میں راجے مہاراجے اپنی بہنوں کو کئی کئی تولے سونے، چاندی اور قیمتی جوہرات تحفے میں دیتے تھے

راکھی کے تہوار سے پہلے بہنیں گهر پر راکهی بنانا شروع کر دیتی ہیں اور جو لڑکیاں راکهی نہیں بناسکتی وہ بازار سے خرید لیتی ہیں.چولستان روہی غریب گھروں سےتعلق رکھنے والی خواتین اپنی چونڑی (دوپٹے) سے دهاگا نکل کر اپنے بهائی کو راکهی باندھتی ہیں میٹھائی کی جگہ گڑ سے منہ میٹھا کراتی ہیں
جن لڑکیوں کے بهائی نہیں ہوتے وہ ہمسایوں میں یا رشتےداروں میں کسی کو منہ بولا بهائی بناکرراکهی باندھتی ہیں.اور یہ رشتہ زندگی بهر قائم رہتا ہے

 ہم اکثر دیکھتے ہیں لوگ مندروں اور درباروں میں عبادت کے بعد اپنی کلائی پر ایک خاص دھاگا باندھتے ہیں. جس کا مطلب بھی یہی ہے کہ یہ ہماری حفاظت کرتا ہے. کال بھیرو کے مندرمیں پجاری عبادت کے بعد یاتریوں کی کلائی پرکالا دهاگا اور شری وشنو دیو کے مندر میں لال دهاگا باندھتے ہیں یہ دهاگا ایسی انوکھی طاقت پیدا کرتا ہے جو انسان کو برے کاموں سے روکتا ہے اور ایک نیک انسان بننے کی طرف اشارہ کرتا ہے

رکشا بندھن یا راکھی کا تہوار بہن بھائیوں کے پیار، ان کے خوبصورت اٹوٹ رشتے کا تہوار ہے۔ راکھی کا تہوار یا رکھشا بندھن ملنے ملانے اور گھر والوں کے ساتھ خوشیاں منانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اس طرح شادی کے دن دلہا دلہن کے گلے میں منگل سوتر پہناتاہے اور ایک دوسرے کو اپنا جیون ساتھی بنا لیتے ہیں یہ بھی رکشا بندھن کی طرح پاک رشتے کو مضبوط کرتا ہے. بعض ہندو مذہب کے پیروکارکا کہنا ہے کہ یہ تہوار صرف بہن بهائی کے لیے نہیں بلکہ بهائی بهائی کو، ایک دوست دوسرے دوست کو، بہن اپنی بہن کو، بیٹی اپنی ماں کو راکهی باندھ سکتی ہیں کیونکہ ایسےکئی تہوار ہیں جن کا مزہب سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ ثقافت سے ہوتا ہے
پاکستان سے باہر دوسرے مزہب کے پیروکار اپنی بہنوں سے راکهی بندهواتے ہیں

مذہبی رہنما محبت رام داس کا کہنا ہے کہ یہ دن بہن اور بهائی کے رشتے میں خلوص پیار ہمدردی ایثار قربانی کا جذبہ پیدا کرتا ہے تہوار ہمارے دلوں میں امن و شانتی کی شمع روشن کرتا ہے اس دن ایک دوسرے کے گلے مل کر تمام لڑائی جھگڑوں کو مٹا کر خوشیاں بانٹنی چاہیے

اشوک کمار کا کہنا ہے پہلے چولستان میں بہن شادی کے بعد سُسرال چلی جاتی تھی تو کئی ماہ، سال میکے سے اس کی کوئی خبر نہیں ملتی تھی اور سالوں کے بعد رکشا بندھن کے دن بہن اور بهائی مقدس رشتے کو پیار کی ایک ڈور میں پروتے تھے اور ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹ کردل کا بوجھ کم کرتے تھے. لیکن اب موبائل فون اور دوسری ایجادات نے سینکڑوں میلوں کے فاصلے کم کر دیا ہے.

LEAVE A REPLY